تاثیر 2 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سرکاری لاپروائی نے بزرگوں سے بڑھاپے کا آخری چھین لیا سہارا
سیتامڑھی( مظفر عالم)ذرا تصور کیجیے… سانسیں چل رہی ہیں، آنکھیں دیکھ رہی ہیں، ہاتھ پیر حرکت میں ہیں، مگر سرکاری کاغذوں میں آپ کو مردہ قرار دے دیا گیا ہو۔ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ بہار کے ضلع سیتامڑھی کی ایک دردناک حقیقت ہے، جہاں انتظامی لاپروائی نے کئی بزرگوں کو زندہ ہوتے ہوئے بھی “مردہ” بنا دیا۔ ضلع کے سونبرسا بلاک کی پورنداہا راجواڑا پنچایت میں پنشن کی تصدیق کے دوران ایک سنگین غلطی سامنے آئی ہے۔ بغیر گھر جا کر تصدیق کیے، بغیر کسی سے تحقیقات کیے، صرف ایک رپورٹ میں یہ لکھ دیا گیا کہ فائدہ اٹھانے والے بزرگ انتقال کر چکے ہیں۔ اس ایک قلمی غلطی نے نہ صرف ان کی شناخت چھین لی بلکہ بڑھاپے کا واحد سہارا، یعنی بڑھاپا پنشن بھی بند ہو گئی۔
پنچایت سکریٹری کی لاپروائی کا خمیازہ جوَت دیوی، ان کے شوہر گونو مہتو، جے ویر پاسوان اور راج کماری دیوی جیسے بزرگ بھگت رہے ہیں۔ عمر 60 سے 70 سال کے درمیان، جن کے لیے 400–500 روپے ماہانہ پنشن ہی زندگی کا سہارا تھی۔ پنشن بند ہوتے ہی دوا، راشن اور علاج سب خواب بن گئے۔
ایک بزرگ روتے ہوئے کہتے ہیں:
“صاحب، دیکھئے… میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں، سانس لے رہا ہوں، مگر سرکاری ریکارڈ میں مجھے مردہ لکھ دیا گیا ہے۔ اب ہم کیسے جیئیں؟” یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بزرگوں کے کھاتوں میں کئی مہینوں سے پنشن نہیں آئی۔ بینک جانے پر پتہ چلا کہ ریکارڈ میں وہ “فوت شدہ” درج ہیں۔ پنشن ویریفکیشن کے نام پر نہ کوئی زمینی جانچ ہوئی، نہ ہی کسی اہل خانہ سے بات بس ایک رپورٹ نے ان کی زندگی بدل دی۔ اب یہ بزرگ آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور دیگر دستاویزات ہاتھ میں لے کر بلاک دفتر اور سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، تاکہ ثابت کر سکیں کہ وہ زندہ ہیں۔ کڑاکے کی سردی میں یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے۔ اہل خانہ بھی پریشان ہیں، کیونکہ بزرگوں کی دیکھ بھال کا بوجھ اب دوگنا ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی لاپروائی پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور مقدمہ درج ہونا چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی بزرگ اس طرح “کاغذی موت” کا شکار نہ ہو، سماجی بہبود محکمہ نے جانچ کی بات تو کہی ہے، شکایت ڈی ایم دفتر تک بھی پہنچ چکی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب تک اصلاح ہوگی، تب تک ان بزرگوں کا کیا ہوگا؟
یہ معاملہ صرف پنشن بند ہونے کا نہیں بلکہ نظام کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا آئینہ ہے۔
جہاں سرکاری اسکیمیں غریبوں اور بزرگوں کا سہارا بننی چاہئیں، وہیں ایک غلط رپورٹ نے انہیں سردی، بھوک اور محتاجی کے حوالے کر دیا۔ ان بزرگوں کی آنکھوں میں اب بھی امید ہے کہ شاید کوئی صاحب سن لے، اور کاغذوں میں دی گئی موت ہٹا کر انہیں دوبارہ زندگی لوٹا دے۔ یہ واقعہ حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سرکار جاگتی ہے، یا یہ بزرگ یونہی ثابت کرتے رہیں گے کہ وہ زندہ ہیں۔

