تاثیر 16 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،16جنوری:وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس قطبی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا “میرا نہیں خیال کہ یورپ میں افواج کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثر انداز ہو گی، اور نہ یہ گرین لینڈ کو ضم کرنے کے ان کے مقصد میں کوئی رکاوٹ بنے گی۔” یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جمعرات کو ایک یورپی فوجی مشن گرین لینڈ پہنچا، جبکہ ڈنمارک نے بھی جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے وہاں عدم موجودگی کی تنقید کا جواب دیا جا سکے۔
فرانس، سویڈن، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ نے ڈنمارک کی فوجی مشقوں “آرکٹک ریزیلینس” کے تحت اپنے دستے بھیجے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ کمک علامتی نوعیت کی ہے، جس میں مثال کے طور پر جرمنی کے 13 اور ہالینڈ و برطانیہ کا ایک ایک فوجی شامل ہے، جس کا مقصد مستقبل کی مشقوں کے لیے تیاری کرنا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے زور دیا کہ یورپی ممالک کو وہاں موجود رہنا چاہیے جہاں ان کے مفادات کو خطرہ ہو، تاہم انہوں نے علاقائی سالمیت کے احترام پر سمجھوتہ نہ کرنے کا بھی ذکر کیا۔

