تاثیر 30 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفر پور (نزہت جہاں)
مظفرپور کے ضلع زرعی افسر (ڈی اے او) سدھیر کمار کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انیس ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیے گئے افسر کو شمالی بہار خصوصی نگرانی عدالت نے نگرانی تحقیقاتی بیورو کی درخواست پر دو روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ آج سے سدھیر کمار کو ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔ ریمامڈ کے دوران نگرانی افسران سدھیر کمار سے ان کی جائیداد، سرمایہ کاری اور آمدنی کے ذرائع کے بارے میں تفصیلی اور سخت پوچھ گچھ کریں گے۔ تفتیش کا دائرہ آمدنی سے زائد اثاثوں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ نگرانی محکمہ کی ٹیم نے ۳ جنوری کو مظفرپور کے جگدیش پوری واقع نجی رہائش گاہ پر جال بچھایا تھا۔ اسی دوران ڈی اے او سدھیر کمار کو صاحب گنج میں تعینات ’آتما‘ کے تکنیکی معاون سنتوش کمار سے انیس ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ یہ رقم دو لاکھ روپے کی رشوت ڈیل کی پہلی قسط بتائی جا رہی ہے۔
گرفتاری کے فوراً بعد پٹنہ واقع رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں سے تیرہ لاکھ روپے نقد،
دو سو پچاس گرام سونا اور چاندی کے زیورات، متعدد بینک کھاتوں کے دستاویزات اور بے نامی جائیداد کے کاغذاتبرآمد ہوئے ہیں۔ ان برآمدگیوں نے انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ معاملہ سنتوش کمار کی دوبارہ بحالی (ری انسٹیٹمنٹ) سے جڑا ہوا ہے۔ ڈکراما گاؤں کے رہنے والے سنتوش کمار سنہ ۲۰۱۹ میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں معطل ہو کر جیل جا چکے تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ ملازمت میں بحالی کے لیے ڈی اے او سدھیر کمار نے دو لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔
نگرانی محکمہ اس بات کی بھی چھان بین کر رہا ہے کہ پٹنہ اور مظفرپور کے علاوہ سدھیر کمار نے کہاں کہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
بینک لین دین، جائیداد کے سودے اور دلالوں کے نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ریمانڈ کے دوران کئی دیگر سفید پوش افسران اور بیچولیوں کے نام سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔
جمعہ اور ہفتہ کی پوچھ گچھ کو اس مقدمے میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ زرعی محکمہ میں کھلبلی
اس کارروائی کے بعد زرعی محکمہ اور انتظامی راہداریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اب سب کی نظریں نگرانی ٹیم کی تفتیش پر مرکوز ہیں کہ معاملہ محض ایک افسر تک محدود رہے گا یا کسی بڑے بدعنوانی نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوگا۔

