آنند پور آتشزدگی میں اب تک آٹھ لاشیں برآمد، مرنے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان

تاثیر 28 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 28 جنوری :جنوبی کولکاتا کے آنند پور پولیس اسٹیشن کے تحت نذیر آباد میں ایک ڈیکوریٹر کے گودام اور ایک مشہور مومو فیکٹری کو لپیٹ میں لینے والی زبردست آگ کے اڑتالیس گھنٹے بعد بھی صورتحال دل دہلا دینے والی ہے۔ منگل کی دیر رات تک ملبے سے کل آٹھ لاشیں نکالی جا چکی تھیں۔ لاشوں کی حالت اتنی خوفناک ہے کہ شناخت ناممکن ہے۔ زیادہ تر مقامات پر، راکھ کے ڈھیروں کے نیچے صرف جلی ہوئی ہڈیاں اور کنکال ملتے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
مقامی ذرائع اور پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کی رات ڈیکوریٹر فرم کے تقریباً 30 ملازمین گودام کے اندر پکنک منا رہے تھے۔ انہوں نے لکڑی اور پلائیووڈ کا استعمال کرتے ہوئے کھانا پکایا، اور پھر احاطے کے اندر سو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق گودام اور مومو فیکٹری کے مرکزی دروازے کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ رات 2:30 بجے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی، آتش گیر مادے کی وجہ سے زہریلی گیس تیزی سے پھیل گئی، جس سے اندر موجود افراد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملا۔