!مظفرپور–نئی دہلی کے درمیان وندے بھارت سلیپر ایکسپریس کی امید

تاثیر 23 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ریلوے بورڈ کو بھیجا گیا تجویز، سفر ہوگا 6 گھنٹے کم
مظفرپور۔ (نزہت جہاں)
شمالی بہار کے ریل مسافروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ مظفرپور سے ملک کی راجدھانی نئی دہلی کے درمیان جدید وندے بھارت سلیپر ایکسپریس ٹرین کے آغاز کی امید مضبوط ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں مشرقی وسطی ریلوے نے ریلوے بورڈ کو باضابطہ تجویز بھیج دی ہے، جس سے مسافروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پٹنہ میں جمعرات کو منعقد علاقائی ریل صارف مشاورتی کمیٹی (ZRUCC) کی اجلاس میں یہ اہم جانکاری سامنے آئی۔ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر راج بھوشن چودھری کے نمائندے اور ZRCC/ECR رکن ہری رام مشرا نے بتایا کہ مظفرپور–نئی دہلی کے درمیان وندے بھارت سلیپر ٹرین کے لیے مطالبہ رکھا گیا ہے، جس پر ریلوے نے مثبت قدم اٹھاتے ہوئے تجویز ریلوے بورڈ کو ارسال کر دی ہے۔ اجلاس میں 6 ارکانِ پارلیمنٹ، ایک رکنِ اسمبلی اور ZRUCC کے 38 اراکین موجود تھے۔ اس دوران مسافروں کی سہولیات میں اضافہ، عوامی امنگوں اور ریلوے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق کئی اہم تجاویز پیش کی گئیں۔ اراکین نے وندے بھارت، امرت بھارت سمیت نئی ٹرینوں کے آغاز اور اسٹاپیج پر ریلوے کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی رات 8 بجے کے بعد مظفرپور سے نرکٹیا گنج کے درمیان ٹرین چلانے کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا، جس پر سفارش کیے جانے کی بات کہی گئی۔
مظفرپور–نئی دہلی روٹ پر وندے بھارت ٹرین کی مانگ کافی عرصے سے کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں مرکزی وزیر راج بھوشن چودھری نشاد نے ریلوے وزیر اشونی ویشنو کے سامنے اوور نائٹ وندے بھارت سلیپر ٹرین کا مطالبہ رکھا تھا، جس پر ریلوے وزیر نے اس روٹ کو وندے بھارت سے جوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ مظفرپور اور آس پاس کے اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، تعلیم اور علاج کے لیے دہلی کا سفر کرتے ہیں۔ فی الحال اس روٹ پر ٹرینوں سے 18 سے 20 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ اگر وندے بھارت سلیپر ایکسپریس شروع ہوتی ہے تو سفر کا وقت 5 سے 6 گھنٹے کم ہو جائے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ایکسپریس حال ہی میں ہاوڑہ–گوہاٹی روٹ پر شروع کی گئی ہے۔ اب مظفرپور–دہلی روٹ کو اس سے جوڑنے کی تیاری نے شمالی بہار کے مسافروں کی امیدوں کو نئی رفتار دے دی ہے۔