تاثیر 28 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گزشتہ27 جنوری کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں طے پانے والا ’’بھارت۔یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ ‘‘ کوبھارت کی معاشی اور سفارتی تاریخ کا ایک فیصلہ کن سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس تاریخی موقع پر پی ایم نریندر مودی کے ساتھ یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئیس سانتوس دا کوسٹا کی موجودگی اس معاہدے کی عالمی اہمیت کو دوچند کر دیتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ 27 یورپی ممالک کے ساتھ معاہدہ بھی 27 تاریخ کو مکمل ہوا،یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی ہم آہنگی کا اعلان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کو صرف یورپی منڈیوں تک غیر معمولی رسائی ہی نہیں دیتا بلکہ اسے ماحولیاتی ضوابط جیسے حساس معاملات پر برابری کی بنیاد پر بات چیت کا حق بھی دلاتا ہے۔ کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم(سی بی اے ایم) کے حوالے سے’’فارورڈ موسٹ فیورڈ نیشن ‘‘شق کا حصول اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارتی مذاکرات کاروں نے قومی صنعت کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس شق کے تحت بھارتی صنعت کو وہی سہولتیں حاصل ہوں گی، جو یورپی یونین نے امریکا کو فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔اس تناظر میں بھارت کی سفارتی کامیابی کو محض رعایت کے طور پر نہیں بلکہ اصولی فتح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بھارت نے یہ واضح کر دیا ہےکہ ترقی پذیر معیشتوں پر یکساں ماحولیاتی پیمانے لاگو کرنا انصاف کے منافی ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے یورپی یونین نے عملی طور پر تسلیم کیا ہے کہ ڈیکاربانائزیشن کا سفر اشتراک، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ظاہر ہے، یہی سوچ بھارت کو عالمی جنوب کی قیادت کا اہل بناتی ہے۔
معاہدے کا ایک اور نمایاں پہلو اسٹیل اور ایلومینیم جیسے بنیادی شعبوں کے لئے حفاظتی تدبیر ہے۔ اسٹیل اسکریپ تک بہتر رسائی پر مفاہمت بھارتی صنعت کو غیر ٹیرفی رکاوٹوں سے بچانے کی سمت اہم قدم ہے۔ بھارت میں گرین اسٹیل انیشی ایٹو کے تحت الیکٹرک آرک فرنس اور انڈکشن فرنس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ توانائی کی کھپت اور پیداواری لاگت میں بھی واضح فرق پڑے گا۔ یورپی مہارت اور بھارتی پیمانے کا امتزاج عالمی سطح پر ایک مسابقتی ماڈل تشکیل دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ وسیع تر صنعتی اور سماجی اثرات بھی رکھتا ہے۔ ٹیکسٹائل، ملبوسات، جیمز اینڈ جیولری، لیدر اور فٹ ویئر جیسے محنت طلب شعبوں میں زیرو ڈیوٹی کا نفاذ براہِ راست روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین، کاریگروں اور ایم ایس ایم ای کلسٹرز کے لئے۔ اسی طرح خدمات کے شعبے میں یورپی منڈیوں تک رسائی بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز، طلبہ اور تعلیمی اداروں کےلئے عالمی دروازے کھولے گی۔ پوسٹ اسٹڈی ویزا فریم ورک جیسے اقدامات انسانی سرمائے کی قدر کو تسلیم کرنے کی واضح مثال ہیں۔
ظاہر ہے،سیاسی سطح پر بھی اس معاہدے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی تجارت تحفظ پسندی، پابندیوں اور جغرافیائی سیاست کی نذر ہو رہی ہے، بھارت اور یورپی یونین کا آزاد تجارت کے حق میں یکجا ہونا ایک مثبت پیغام ہے۔ یہ شراکت داری دنیا میں طاقت کے توازن کو مستحکم کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمہوری اقدار اور معاشی مفادات ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہو سکتے ہیں۔اس طرح یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ در اصل بھارت کی معاشی طاقت کا اعلان ہے۔ اس سال 4 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ جاپان کو پیچھے چھوڑنے والا بھارت دنیا کی تیز ترین معیشت ہے۔ پی ایم مودی کے ویژن نے عالمی سپلائی چین کو مستحکم اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ یہ نہ صرف معاشی بلکہ جیو پولیٹیکل فتح ہے، جو بھارت کو عالمی قائد بناتی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ آگے یہ شراکت مزید مضبوط ہوگی۔ چنانچہ ماہرین کے مطابق بھارت کے سنہری دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
آخر میں، 27 جنوری کو نریندر مودی، اُرسلا فان ڈیر لیئن اور انتونیو کوسٹا کی قیادت میں طے پانے والا یہ معاہدہ اس اعتماد کی توثیق ہے کہ بھارت اب عالمی معیشت کا محض حصہ نہیں بلکہ اس کے مستقبل کی تشکیل میں ایک فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ آنے والے برسوں میں بھارت کی صنعتی خودمختاری، سبز ترقی اور عالمی اثرورسوخ کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے ساتھ ساتھ طلبہ اور سرمایہ کاروں کے لئے بھی نئے امکانات کے دروازے کھولنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

