تاثیر 8 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 8 جنوری (تاثیر بیورو) انڈین چیمبر آف کامرس کے زیرِ اہتمام 19واں انوائرنمنٹ پارٹنرشپ سمٹ اینڈ انوائرنمنٹ ایکسی لینس ایوارڈز جمعرات کو کولکاتا میں منعقد ہوا، جس کا موضوع “پائیدار مستقبل کے لیے سرکلر اکانومی کو اپنانا” تھا۔ سمٹ میں پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور ماہرین نے روایتی “لے لو، بناؤ، پھینک دو” ماڈل کے بجائے سرکلر اکانومی اپنانے پر زور دیا۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال حکومت کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ماحولیات) محترمہ روشنـی سین نے کہا کہ بڑھتی آبادی، فضلے میں اضافہ اور قدرتی وسائل پر دباؤ کے پیشِ نظر سرکلر اکانومی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زیرو ویسٹ صنعتی یونٹس، ای ویسٹ ری سائیکلنگ، کنسٹرکشن ویسٹ مینجمنٹ اور ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلٹی جیسے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
آئی سی سی کے سینئر عہدیداران، نابارڈ، تعلیمی اداروں اور صنعت کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکلر اکانومی نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی وسائل کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ موقع پر ماحول دوست اقدامات انجام دینے والی تنظیموں کو انوائرنمنٹ ایکسی لینس ایوارڈز سے نوازا گیا۔

