اسرائیل کا آباد کاروں کو راکٹوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس کرنے پر غور

تاثیر 5جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،05جنوری:اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شمالی حصے میں مستقل بنیادوں پر اپنی نفری بڑھانا شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے اور اس سے زمینی صورت حال یکسر بدل جائے گی۔ اس منصوبے میں آباد کاروں کے ہتھیاروں میں اضافہ (بشمول مشین گنیں اور ٹینک شکن میزائل)، نئی بستیوں کی تعمیر اور پہلے سے موجود مگر الگ تھلگ بستیوں کی بحالی شامل ہے۔اسرائیلی اخبار “یدیعوت آحرونوت” نے اتوار کے روز بتایا کہ جنگ اور مختلف محاذوں پر توجہ مرکوز ہونے کے سائے میں اسرائیلی فوج خود کو مغربی کنارے میں آباد کاروں کے زیر قبضہ علاقوں کے دوگنا دفاع کی مہم میں دیکھ رہی ہے۔ یہاں گذشتہ تین برسوں کے دوران درجنوں بستیاں اور فارم ہاوسز قائم ہوئے ہیں۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس مسئلے کے پیش نظر فوج نے پرانی اور نئی بستیوں کے سیکٹر میں نئی بٹالینز کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ شمالی مغربی کنارے میں 2005 میں کیے گئے علیحدگی کے عمل (ڈس انگیجمنٹ) کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں علیحدگی کے قانون کے ایک حصے کی منسوخی کو ٹھوس حقیقت میں بدلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عملی طور پر فوجی دستے شمالی مغربی کنارے میں راستے بنا رہے ہیں تاکہ فلسطینی قصبہ “سیل’ الظیر” کے گرد بائی پاس راستہ تیار کیا جا سکے اور “صانور” نامی بستی، جسے پہلے خالی کر دیا گیا تھا، اس کی حفاظت کے لیے ایک نئی فوجی چوکی قائم کی جا سکے۔