تاثیر 5جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی اب کرکٹ کے میدان تک جا پہنچی ہے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے تمام میچز اور متعلقہ پروگراموں کی نشریات پر غیر معینہ مدت کی پابندی عائد کر دی ہے، جوکل 5 جنوری 2026 سے ہی نافذ العمل ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے حکم پر بنگلہ دیشی اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی ٹیم سے نکالنے کے فوری ردعمل میں سامنے آیا۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے فروری 2026 میں بھارت کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے اپنی ٹیم نہ بھیجنے کا اعلان کر دیا تھا اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
اس تنازع کی جڑیں بنگلہ دیش میں گزشتہ سال ہونے والی شدید سیاسی تبدیلیوں میں پیوست ہیں۔ شیخ حسینہ کی طویل حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت قائم ہوئی، جس کی سربراہی نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے دوران ہندو اقلیت پر مبینہ حملوں اور مندروں کی توڑ پھوڑ کی رپورٹس بھارت میں شدید غم و غصے کا باعث بنیں۔ یہ رپورٹس سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر وائرل ہوئیں، جس سے بھارتی عوام میں بنگلہ دیش کے خلاف منفی جذبات ابھرے۔ مستفیض الرحمٰن کو کے کے آر نے دسمبر 2025 کی منی نیلامی میں 9.20 کروڑ روپے کی بھاری رقم میں خریدا تھا، لیکن بھارت میں بعض سیاستدانوںاور دھارمک باباؤں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ موجودہ حالات میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کو بھارت کی سرزمین پر کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ نتیجتاً بی سی سی آئی نے کے کے آر کو حکم دیا کہ مستفیض کو ٹیم سے رہا کر دیا جائے۔ بی سی سی آئی نے اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی ہے، مگر مبصرین اسے اندرونی سیاسی اور سماجی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق بی سی سی آئی کا فیصلہ اندرونی جذبات کے دباؤ میں آیا دکھائی دیتا ہے۔ کرکٹ بھارت میں محض کھیل نہیں بلکہ قومی فخر اور جذباتی مسئلہ ہے۔ تاہم، یہ اقدام کرکٹ کی بنیادی روح یعنی غیر جانبداری اور کھیل کی بالادستی کو شدید نقصان پہنچانے والا ہے۔ آئی پی ایل ایک عالمی ٹورنامنٹ ہے، جس کی کشش کا انحصار غیر ملکی اسٹار کھلاڑیوں پر ہے۔ مستفیض الرحمٰن جیسےفاسٹ بولر کی عدم موجودگی سے کے کے آر کی بولنگ لائن اپ کمزور ہوگی اور بھارتی شائقین بھی ایک دلچسپ کھلاڑی سے محروم رہ جائیں گے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر اس تناؤ کے اثرات اور بھی سنگین ہیں۔ بنگلہ دیش کو گروپ سی میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، اٹلی اور نیپال کے خلاف میچز کھیلنے ہیں، جن میں سے تین میچ کولکتہ اور ایک ممبئی میں شیڈولڈ ہیں۔ بی سی بی کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ماحول میں بھارت میں کھلاڑیوں کی حفاظت اور غیر جانبدارانہ ماحول کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ آئی سی سی اب تک اس درخواست پر خاموش ہے۔ اگر میچز منتقل ہوئے تو بھارت کو میزبانی کے حقوق سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہوگا۔ اگر بنگلہ دیش دستبردار ہوا تو آئی سی سی کو جرمانوں، پوائنٹس کی تقسیم اور ٹورنامنٹ کی ساکھ کا بحران درپیش ہوگا۔
یہ بحران صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع سفارتی اور سیاسی اثرات ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی تنازعات، پانی کے مسائل، تجارت اور نقل مکانی کے معاملات پہلے سے ہی حل طلب ہیں۔ کرکٹ، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ایک مشترکہ جذبہ اور پل کا کردار ادا کرتا تھا، اب تقسیم اور دوری کا سبب بن رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت شاید اس تناؤ کو اندرونی سیاسی استحکام کے لئے استعمال کر رہی ہے، جبکہ بھارت میں یہ قوم پرستی کے بیانیے کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ ماضی میں کرکٹ نے سفارتکاری کا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے،2011 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں بھارت اورپاکستان میچ نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نرمی پیدا کی تھی۔
بہر حال اس غیر ضروری کشیدگی کو فوری طور پر حل کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ایسے میں آئی سی سی کو فعال ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے اور دونوں کرکٹ بورڈز کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہئے۔ بھارت کو مستفیض الرحمٰن کے معاملے میں مکمل شفافیت دکھانی چاہئے اور اگر ممکن ہو تو فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ بنگلہ دیش کو بھی آئی پی ایل کی پابندی پر فوری نظرثانی کرتے ہوئے شائقین کے مفاد کو ترجیح دینی چاہئے۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، ورنہ یہ بحران نہ صرف کرکٹ کی روح کو نقصان پہنچائے گا بلکہ دونوں ملکوں کی ہمسایگی اور مشترکہ مفادات کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا ہی بہتر ہے تاکہ عوامی سطح پر رابطے برقرار رہیں اور سفارتی تعلقات مزید بہتر ہو سکیں۔

