تاثیر 30 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حکومت بہار نے زمینی تنازعات میں پولیس کی مداخلت کو ختم کرنے کا ایک اہم اور دور رس فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ کل یکم فروری ، 2026 سے پورے ریاست میں نافذ العمل ہو جائے گا۔نائب وزیر اعلیٰ اور اصلاحات اراضی کے وزیر وجے کمار سنہا نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا کہ اب پولیس کی ذمہ داری صرف قانون و انتظام برقرار رکھنے تک محدود رہے گی۔محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری اور محکمہ اصلاحات اراضی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سی کے انل کی جانب سے جاری مشترکہ حکمنامے کے مطابق، پولیس بغیرمجاز اتھارٹی کے حکم کے نہ تو کسی کو دخل قبضہ دلائے گی، نہ ہی چہاردیواری یا تعمیراتی کام کرائے گی یا روکے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ زمینی تنازع محصولات اور عدالتی عمل کا معاملہ ہے، پولیس کی سنک یا من مانی کا نہیں۔ قانون و انتظام کی آڑ میں غیر ضروری مداخلت، ڈرانے دھمکانے یا وصولی کے کھیل کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ریاست کے زمینی تنازعات سے متعلق یہ فیصلہ ’’بھومی سدھار جن کلیان سنواد‘‘ کے دوران موصول ہونے والی متعدد شکایات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ شکایات میں پولیس کی ضرورت سے زیادہ مداخلت سامنے آئی تھی۔ نئی ہدایات میں کئی اہم اقدامات شامل ہیں، جن کے مطابق تنازع کی اطلاع ملتے ہی تھانہ انچارج کو اسٹیشن ڈائری میں الگ اور واضح طور پر معاملے کا اندراج کرنا لازمی ہو گا۔ اسٹیشن ڈائری میں فریقین کے نام و پتے، تنازع کی نوعیت ( محصولاتی ، سول یا آپسی)، متنازع زمین کی مکمل تفصیلات (تھانہ، کھاتہ، خسرہ، رقبہ، قسم)، تنازع کا مختصر بیان اور ابتدائی پولیس کارروائی درج کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ معاملہ پہلی نظر میں کس محصولاتی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ تھانہ انچارج کو یہ معلومات فوری طور پر متعلقہ سرکل افسر کو تحریری شکل میں، ای میل یا سرکاری پورٹل کے ذریعے بھیجنی ہوں گی تاکہ پولیس اور محصولات انتظامیہ میں بہتر ہم آہنگی قائم رہے۔
اس کے علاوہ، تنازعات کے تیز رفتار حل کے لئے ہر ایک سنیچر کو سرکل دفتر میں سرکل افسر اور تھانہ انچارج (یا ان کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل تھانہ انچارج) کی مشترکہ میٹنگ منعقد ہو گی، جہاں مقدمات کی پیشرفت کو محکمہ جاتی پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ اس طرح کے معاملوں میں پہلے کی طرح دفعہ 107/116 ضابطہ فوجداری (بی این ایس کے مساوی) کے تحت پولیس کی ذمہ داری برقرار رہے گی، لیکن اس کا غلط استعمال کر کے زمینی تنازعات میں غیر ضروری مداخلت نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی افسر ان ہدایات کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت انتظامی اور انضباطی کارروائی ہوگی ۔
اس طرح کے اقدامات بظاہر انتظامی اصلاحات کے دائرے میں آتے ہیں، مگر بہار جیسی ریاست میں، جہاں زمینی تنازعات اکثر تشدد، بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ سے جڑے ہوتے ہیں، حکومت بہار کا یہ فیصلہ دراصل قانون کی بالادستی کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ وجے کمار سنہا کا بیان کہ ’’تھانوں کی من مانی اب نہیں چلے گی‘‘ دیہی علاقوں کے کمزور طبقات کے لئے امید کی کرن ہے۔زمینی تنازعات میں اکثر طاقتور کو ہی پولس مدد کرتی ہوئی پائی جاتی ہے۔ تاہم، اس نئے فیصلے کے عملی نفاذ میں بھی دشواریاں حائل ہیں۔ محصولاتی نظام میں پہلے سے تاخیر اور بدعنوانی کے مسائل در پیش ہیں۔اگر سرکل افسر اور اورتھانہ انچارج کی مشترکہ میٹنگیں اور پورٹل پر متعلقہ تفصیلات کو اپ لوڈ کرنے جیسی کارروائیاں صرف رسمی اور خانہ پری کے طور پر ہو نے لگیں تو ظاہر ہے، اس کے اصل فائدےاور اس کے نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی کمی بھی رکاوٹ کی وجہ بن سکتی ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت پوری قوت ارادی کے ساتھ اس فیصلے کو زمین پر اتارنے کا تہیہ کرلے تو دھیرے دھیرے تمام رکاوٹوں کا سد باب ہو سکتا ہے۔
سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو زمینی تنازعات میں پولس کی غیر ضروری مداخلت سے متعلق حکومت بہار کا یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی اصلاح پسند شبیہ کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔اور یہ اس لئے کہ بہار میں زمین سے متعلق معاملات بہار کی سیاست کا حساس ایشو ہے۔ اگر یہ ہدایات سختی سے نافذہونے لگیں تو اس سے ایک طرف پولیسیا داداگیری سے عام لوگوں کو نجات ملے گی تو دوسری طرف بہت سارے تنازعات کے عدالتی اور محصولاتی عمل کے ذریعے حل ہونے سے انصاف کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ ریاست بہار کے عوام کو امید ہے کہ یہ فیصلہ محض کاغذی اعلان نہیں بلکہ زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو گا۔یعنی کل یکم فروری سے ، ریاست کے زمینی تنازعات سے جڑے معاملوں کے نپٹارے میں وردی کا رعب نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی غالب رہے گی۔

