سردی سے نمٹنے میں ناکام نگر پریشد

تاثیر 5جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سیتامڑھی ( مظفر عالم)
بہار میں دسمبر سے موسم نے اچانک ایسی کروٹ لی کہ سردی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ شدید سردی کے باعث عام لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، مگر افسوس کہ سردی سے بچاؤ کے نام پر نگر پالیکا جنکپور روڈ، پُوپری کی تیاریاں مکمل طور پر فیل ثابت ہو رہی ہیں۔ نگر پریشد کی جانب سے شہر کے اہم مقامات—کپورّی چوک، سب ڈویژن چوک، ٹاور چوک، ناگیشور استھان اور ریلوے اسٹیشن کے قریب—کھلی جگہوں میں روم ہیٹر نما لیمپ نصب کیے گئے ہیں، جنہیں دیکھ کر شہری حیرت میں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انتظام سردی دور کرنے کے بجائے سرکاری پیسوں کی کھلی بربادی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ ’’ہاتھ بھی گرم نہیں ہو رہا، سردی کہاں سے جائے گی؟‘‘ یہ روم ہیٹر ہیں، کھلی جگہوں میں بالکل بے اثر۔ جب ہاتھ ہی گرم نہیں ہو رہا تو سردی کیسے جائے گی؟ ایسے ہیٹر کمرے میں اچھے لگتے ہیں، چوراہوں پر نہیں۔‘‘
نگر پریشد کے وارڈ نمبر 12 کے پارشد نمائندے نے بتایا کہ: کئی دن گزر چکے ہیں مگر اب تک وارڈ میں الاؤ کے لیے لکڑی نہیں بھیجی گئی۔‘‘
جب اس معاملے پر ایگزیکٹو آفیسر کیشو گوئل سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا دو ٹوک جواب تھا: جب رہے گا، تب دیں گے۔‘‘ یہ جواب شہریوں میں غصے کی آگ مزید بھڑکا دیا ھے
شدید سردی کے باعث بزرگ اور بچے گروہ بنا کر الاؤ کے پاس بیٹھے نظر آئے، جبکہ چائے کی دکانیں وقتی پناہ گاہ بن گئیں جہاں لوگ گرم چائے کی چسکیاں لے کر سردی سے لڑتے دکھائی دیے اتوار کو پچھوا ہوا کے زور نے سردی کو اور بھی جان لیوا بنا دیا۔ شہر کی سڑکیں سنسان رہیں، بازاروں میں گاہک کم نظر آئے اور دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے سردی کے بڑھتے اثرات کے سبب ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانوں، شوروم اور مالز میں رش دیکھا گیا۔
خواتین نے سویٹر، اسکارف، شال اور گرم ملبوسات خریدے، جبکہ مردوں اور بچوں نے جیکٹ، ٹوپی، دستانے، جوتے اور موزے خریدے۔ ریلوے جنکشن پر کئی ٹرینوں کے تاخیر اور منسوخی کے باعث مسافر گھنٹوں پلیٹ فارم پر سردی میں ٹھٹھرتے رہے، مگر کوئی مؤثر انتظام نظر نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ جب شدید سردی میں الاؤ کی لکڑی نہیں، تو چوراہوں پر روم ہیٹر کیوں؟
کیا یہ لاپروائی ہے یا سرکاری خزانے سے کھلواڑ؟