مہاراشٹر کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ

تاثیر 1 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مہاراشٹر کی سیاسی تاریخ میں کل ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔ 28 جنوری، 2026 کو بارامتی ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے المناک طیارہ حادثے میں اجیت پوار کے انتقال کے محض تین دن بعد، ان کی اہلیہ سونیترا پوار نے 31 جنوری ،2026 کی شام راج بھون، ممبئی میں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس طرح وہ مہاراشٹر کی پہلی خاتون ڈپٹی چیف منسٹر بن گئی ہیں۔ یہ پیش رفت  نہ صرف پوار خاندان کے سیاسی تسلسل کی علامت ہے بلکہ ریاست کی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت اور قیادت کے نئے دور کا بھی آغاز ہے۔
اجیت پوار کی اچانک وفات نے این سی پی (اجیت گروپ) میں قیادت کا بحران پیدا کر دیا تھا۔ پارٹی کے سینئر لیڈرز،چھگن بھجبل، سنیل تٹکرے، پرپھل پٹیل اور دیگر،نے متفقہ طور پر سونیتراپوار کے نام پر اتفاق کیا۔کل دوپہر 2 بجے ویدھان بھون میں این سی پی کی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں انھیں بلا اختلاف پارٹی لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد گورنر آچاریہ دیورَت نے شام 5 بجے حلف برداری کی تقریب منعقد کی۔ سونیترا پوار نے اپنے متوفی شوہر کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھانے کا عہد کیا اور کہا کہ وہ اجیت پوار کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے شب و روزکام کریں گی۔
سونیترا پوار کا سیاسی سفر ایک عام گھریلو خاتون سے شروع ہو کر آج مہاراشٹرکے ایک اہم عہدےتک پہنچا ہے۔ 1963 میں دھراشیف ضلع میں پیدا ہونے والی سونیترا نے 1983 میں سرسوتی بھون کالج، سمبھاجی نگر سے کامرس میں گریجویشن کیا۔ 1985 میں اجیت پوار سے شادی کے بعد وہ طویل عرصہ تک پس منظر میں رہیں، مگر سماجی کاموں میں مسلسل فعال رہیں۔ کٹے واڑی گاؤں میں صفائی مہم، بارامتی ہائی ٹیک ٹیکسٹائل پارک کی بنیاد، ویدیا پرتشٹھان کی ٹرسٹی شپ، اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے اینوائرنمنٹل فورم آف انڈیا کی سرگرمیاں ان کی صلاحیتوں اور عزم کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ 2006 میں کٹے واڑی کو نرمل گرام قرار دیا گیا تھا،یہ ان کی سب سے نمایاں ابتدائی کامیابیاں تھیں۔سیاست میںسونیترا پوار کا براہ راست قدم 2024 میں آیا، جب انہوں نے بارامتی لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا، مگر سوپریا سُلی سے وہ ہار گئیں۔ اس کے بعد جون، 2024 میں وہ راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہوئیں۔ اب ڈپٹی چیف منسٹر بننے کے بعد انہیں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارامتی کی خالی ہونے والی راجیہ سبھا نشست پر ان کے بیٹے پارتھ پوار کو موقع مل سکتا ہے۔
سونیترا پوار کو ڈپٹی سی ایم بنائے جانے کا فیصلہ این سی پی کے لئے ایک امتحان بھی ہے۔ شرد پوار اور این سی پی (ایس پی) گروپ کو اس فیصلے کی کل صبح تک کوئی اطلاع نہیں تھی، جس سے دونوں گروپ کے درمیان انضمام کی امیدوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ شرد پوار کل یہ بات کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے تھے کہ اجیت کی سب سے بڑی خواہش دونوں این سی پی گروپ کا انضمام تھا اور وہ اس سلسلے میں فیصلہ کرکے 12 فروری کو اعلان بھی کرنے والے تھے، مگر قسمت نے اجیت کو اس سے پہلے ہی ہم سے چھین لیا۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہاتھا کہ نئی نسل اجیت کی وراثت کو ضرور آگے بڑھائے گی۔مہایوتی حکومت، بالخصوص چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے این سی پی کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے۔ فڑنویس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کل کہا تھا کہ وہ اجیت پوار کے خاندان اور این سی پی کے ساتھ کھڑے ہیں اور پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی، حکومت اس کا احترام کرے گی۔
سونیتراپوار مہاراشٹر کی ڈپٹی سی ایم بن ضرور گئی ہیں، لیکن  ان کے سامنے اب کئی چیلنجز بھی ہیں۔ وہ ابھی تک اسمبلی یا کونسل کی رکن نہیں ہیں، لہٰذا چھ ماہ کے اندر ایم ایل اے یا ایم ایل سی بننا ان کے لئے ضروری ہوگا۔ انہیں اجیت پوار کے سیاسی نیٹ ورک، بارامتی کی عوامی محبت، پارٹی کی اندرونی انتظامیہ اور مہایوتی حکومت کے اندر اپنا مقام مستحکم کرنا ہے۔ ان کا سماجی پس منظر،خاص طور پر خواتین، تعلیم، دیہی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں تجربہ،انہیں ان شعبوں میں مؤثر پالیسیاں بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مانا جارہا ہے ، اجیت پوار کے بعد ان کی اہلیہ کا مہاراشٹر کی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت کی ایک واضح علامت ہے۔ سونیترا پوار کی یہ کامیابی نہ صرف پوار خاندان بلکہ ریاست کی ہر اس خاتون کے لئے ایک پیغام ہے ،جو سیاست میں قدم رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اجیت پوار کا غم ابھی تازہ ہے، مگر سونیترا پوار کا یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ سیاست میں بیک وقت تسلسل اور تبدیلی دونوں ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ مہاراشٹر کی نئی خاتون قائد اپنے عمل، فیصلوں اور عوامی خدمت سے یہ ثابت کریں کہ وہ محض ایک خاندانی جانشین نہیں، بلکہ ایک خودمختار اور باوقار لیڈر بھی ہیں۔ مہاراشٹر کے عوام ان سے بہت توقع رکھتے ہیں۔ اور انھیں پوری امید ہےکہ  سونیترا پوار ان کی توقعات کی کسوٹی پرکھری بھی اتریں گی۔
**********