تاثیر 21 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 21جنوری :ایک اہم فیصلے میں پٹنہ ہائی کورٹ نے شادی کے وعدے کی بنیاد پر رضامندی سے تعلق رکھنے والے معاملات میں نچلی عدالتوں کے نقطہ نظر پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ دو بالغوں کے درمیان رضامندی سے تعلقات کو عصمت دری نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے ایف ا?ئی ا?ر کو کالعدم قرار دے دیا۔
ایک اہم فیصلے میں پٹنہ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ “دو بالغوں کے درمیان رضامندی سے جسمانی تعلقات کو عصمت دری نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے شادی کا وعدہ پورا نہ ہو۔” عدالت نے کہا کہ “شادی کرنے سے قاصر ہونا اور جھوٹا وعدہ کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔” ایسی صورت حال میں اسے عصمت دری کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جا سکتا۔

