بنگلہ دیش کے سندربن میں سمندری ڈاکووں کا ڈیرہ، دہشت میں ماہی گیر

تاثیر 21 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈھاکہ، 21 جنوری : بنگلہ دیش کی 1320 کلومیٹر کی سمندری سرحد پر مقامی ماہی گیروں کے لیے سندربن میں داخل ہونا آسان نہیں ہے۔ یہاں قزاقوں کے درجنوں گروہ پہنچ چکے ہیں۔ یہ ڈاکو ماہی گیروں کو مبینہ طور پر ’پرمٹ‘ جاری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں موٹی رقم لیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ نے اس نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے آپریشن تیز کر دیے ہیں۔
’ڈھاکہ ٹریبیون‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پیسہ نہیں دینے پر ان کا اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اس دوران اذیت دی جاتی ہے۔ پھر تاوان دینے پر ہی چھوڑا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ قزاق گروہوں کے نام نہاد ’ٹوکن‘ لینے کے لیے مجبور ہیں۔ بتاتے ہیں کہ 2017 میں بڑے پیمانے پر سمندری ڈاکووں کے خود سپردگی کے بعد یہ روایت کافی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ مگر 5 اگست 2024 کو سیاسی بدامنی کے بعد پھر سے سندربن میں ڈاکو سرگرم ہو گئے ہیں۔