تاثیر 2 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران،02جنوری:۔ایران میں مہنگائی اور افراط زر کے انتہائی اونچی سطح پر چلے جانے جبکہ ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی گراوٹ کے خلاف جاری احتجاج کے پانچویں روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف جگہوں پر تصادم کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔اس سلسلے میں جمعرات کے روز بتایا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے نسبتا جارحانہ انداز اختیار کر لیا اور احتجاج کی شکل سیاسی ہوتی جا رہی ہے۔سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کے روز سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران یہ پہلی چھ ہلاکتیں بتائی گئی ہیں۔ایران میں مہنگائی اور افراط زر کے خلاف تاجروں اور دکانداروں کا یہ احتجاج پچھلے اتوار کے روز شروع ہوا تھا۔ شروع میں یہ احتجاج مکمل پر امن رہا اور تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دیکھنے میں آیا۔ تاہم اب اس احتجاج میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔
مظاہرین نے جمعرات کے روز ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور ایرانی رجیم کو اٹھا پھینکنے کا مطالبہ کیا۔سرکاری خبر رساں ادارے ‘فارس’ نیوز ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز دو افراد کی ہلاکت لوردی گان نامی شہر میں ہوئی۔ جبکہ تین افراد عنزہ میں ہلاک ہوئے۔جمعرات کے روز اس سے پہلے ریاستی ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ سرکاری سکیورٹی ادارے کا ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔ جسے مظاہرین نے ایران کے مغربی شہر کوہ دشت میں ہلاک کیا۔

