یوم جمہوریہ پریڈ: طاقت، اتحاد اور جدت کا شاندار سنگم

تاثیر 24 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کل 26 جنوری کو دہلی کے کرتویہ پتھ پر منعقد ہونے والی 77 ویں یوم جمہویہ پریڈ بھارت کی جمہوریت، قومی فخر اور ترقی کی سحر انگیز عکاسی کرنے والی ہے۔اس بار کی یہ تقریب کئی اعتبار سے منفرد ہے۔اس میں ملک کی فوجی طاقت، ثقافتی ورثہ، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تعلقات کو ایک ساتھ پیش کرنے تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت توانائی کی ’’پرکاش گنگا‘‘ جھانکی بھی اس قومی تقریب کو ایک یادگار انداز دینے کے لئے تیار ہے۔
وزارت توانائی کی جھانکی’’پرکاش گنگا‘‘ کو ایک خودمختار اور ترقی یافتہ بھارت کےلئے طاقت کی علامت کو طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ توانائی کے شعبے میں بھارت کی انقلابی پیش رفت کو اجاگر کرے گی ۔عالمی سطح پر رسائی سے لے کر صاف اور پائیدار توانائی میں قیادت تک کی نمائندگی کرنے والی اس جھانکی کی تھیم ’’روشنی کی ندی‘‘ ہے۔یہ ’’بغیر رکاوٹ بہاؤ ‘‘ کی شبیہ پیش کرے گی ، جو لاکھوں گھروں اور صنعتوں کو جوڑتی ہے۔ جھانکی میں روبوٹک سمارٹ میٹر، ونڈ ٹربائن، روف ٹاپ سولر، الیکٹرک وھیکل چارجنگ اسٹیشن، ہائیڈرو، ونڈ اور جیوتھرمل پاور کے ماڈل شامل ہیں۔ یہ ماڈل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کے امتزاج سے شہریوں کو’’پروزیمرز‘‘ بنانے کے وژن کو ظاہر کرتے ہیں۔ ’’سوئچنگ آن انڈیا‘‘ کا ڈھانچہ گرڈ کے استحکام اور بغیر رکاوٹ سپلائی کا منظر پیش کرے گا۔ اقتصادی ترقی اور توانائی کی حفاظت کو یہ کس طرح تقویت فراہم کرتا ہے، ناظرین کل ا پنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔
یہ جھانکی عالمی توانائی بحران اور ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں بھارت کی مثبت سمت کو نمایاں کرتی ہوئی نظر آئے گی۔پریڈ کی دیگر اہم خصوصیات اسے مزید خاص بنانے والی ہیں۔ اس بار چیف گیسٹس یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا ہیں،پہلی بار ایک ملک کے بجائے ایک بین الاقوامی اتحاد کی نمائندگی ہونے والی ہے۔ظاہر ہے، یہ بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی اور یورپ کے ساتھ بہتر تعاون کا مظہر ہے۔
اس بار کے جشن جمہوریہ کی تھیم ’’وندے ماترم ‘‘کے 150 سال مکمل ہونے پر مبنی ہے۔ کرتویہ پتھ پر 1923 کی تاریخی پینٹنگز اور ثقافتی پروگرام ’’آزادی کا منتر: وندے ماترم‘‘ اور’’سمردھی کا منتر – خودمختار بھارت‘‘ کے موضوع پر ہوں گے، جو ماضی کی جدوجہد کو مستقبل کی ترقی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔فوجی ڈسپلے میں نئی جھلکیاں شامل ہیں۔ اس میں بیٹل ایرے فارمیشن، بھیرو لائٹ کمانڈو بٹالین کا پہلا مظاہرہ، ایس-400 میزائل سسٹم، آپریشن سندور کی یاد، اور دیسی ٹیکنالوجی جیسے شکتی بان، آکاش میزائل، روبوٹک میولز اور یو جی وی۔ یہ دفاعی خودمختاری اور جدیدیت کی عکاسی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ایک اہم تبدیلی ہے۔اس بار تمام ناظرین کی گیلریاں بھارتی ندیوں (گنگا، یمنا، گوداوری، نرمدا وغیرہ) کے نام پر ہونگیں۔ تقریباً 10,000 خاص مہمانوں میں قدرتی کھیتی کے کسان، اسٹارٹ اپ بانی، سلف ہیلپ گروپس کی خواتین اور پیرا ایتھلیٹس شامل ہیں۔یہ پریڈکے اعلیٰ سطحی  خاکے میں عوامی رنگ بھریں گے۔
اس بار کی پریڈ صرف ایک شاندار نمائش نہیں، بلکہ ایک گہرا پیغام بھی ہے۔بھارت ماضی کی قربانیوں سے سبق لے کر مستقبل کی طرف پختہ عزم کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ یہ پریڈہمیں یاد دلانے والی ہے کہ حقیقی ترقی صرف فوجی طاقت، تکنیکی جدت اور ثقافتی فخر میں نہیں، بلکہ ان سب کو جامع سماجی انصاف، ماحولیاتی ذمہ داری اور ہر شہری کی شمولیت کے ساتھ جوڑنے میں ہے۔
بہر حال کل کا یہ جشن جمہوریہ قوم کو ایک بار پھراس عمل مسلسل کی دعوت دینے کے لئے ریار ہے کہ وہ نمائش کو عملی حقیقت میں بدلے، توانائی کو گھر گھر تک پہنچائے، دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر خودکفیل بنائے، ثقافتی تنوع کو طاقت کا سرچشمہ قرار دے اور معاشرتی مساوات کو ریاست کی بنیادی ترجیح بنائے۔ظاہر ہے، اگر ہم اس موقع سے سبق سیکھ کر متحد ہو کر آگے بڑھیں، مذہبی منافرت کو درکنار کریں، ملک کو امن و محبت کی آماجگاہ بنانے کے لئے جدو جہد کریں اوربقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق جینے کا راستہ ہموار کریں تو بھارت نہ صرف ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا، بلکہ دنیا کے سامنے تنوع کی خوبصورتی کی ایک روشن مثال بھی پیش کرے گا۔
*******************