تاثیر 12 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ان دنوں مغربی بنگال کی سیاست میں زبردست کشیدگی برپا ہے۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔دوسری جانب ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ای ڈی کی پٹیشن کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات میں رکاوٹوں سے متعلق ہے، جبکہ ممتا بنرجی کی شکایات ووٹر لسٹ کی نظرثانی پروسس کی مبینہ خامیوں پر مبنی ہیں۔
ای ڈی کی پٹیشن کے مطابق، کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کے دوران کولکاتہ میں 8 جنوری کوتفتیشی افسران کو روکا گیا، دھمکایا گیا اور ان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ تین ای ڈی افسران نے یہ پٹیشن دائر کی ہے۔ پٹیشن میں ممتا بنرجی، ڈی جی پی راجیو کمار اور کولکاتہ پولیس کمشنر منوج ورما پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ خود 100 سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ ملزم پرتیک جین کے گھر پہنچیں اور ضبط شدہ سامان کو زبردستی لے کر اپنے ساتھ لے کر چلی گئیں۔ای ڈی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹی ایم سی کے حامیوں نے ہائی کورٹ کی سماعت سے قبل واٹس ایپ گروپس کے ذریعے منظم ہنگامہ آرائی کی کوشش کی، جس سے عدالتی عمل متاثر ہوا۔ ای ڈی کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے ایف آئی آر درج کی جائے اور تحقیقات کی جائیں۔
ظاہر ہے،یہ الزامات سنگین ہیں۔ یہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی آزادی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کا معاملہ ہے۔ایک طرف، ای ڈی کا موقف ہے کہ یہ واقعہ کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، جو 2,742 کروڑ روپے کی مالیت کا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو واضح طور پر یہ قانون کی حکمرانی پر حملہ اور بھارت کے آئین کی روح کے خلاف ہے۔ تاہم، اسے سیاسی انتقام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب کہ مغربی بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان سیاسی دشمنی عروج پر ہے۔ ممتا بنرجی مرکزی حکومت پر مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ای ڈی کی جانب سے سپریم کورٹ میں د ائر پٹیشن کو بھی بعض لوگ اسی سیاسی دشمنی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب، ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر الزامات کی بوچھا ر کر دی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو پانچواں خط لکھ کر ووٹر لسٹ کی ’’سپیشل انٹینسیو ریویژن‘‘ (ایس آئی آر) کےپروسیس پر شدید تنقید کی۔ ممتا کا دعویٰ ہے کہ 2002 کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹلائز کرنے میں اے آئی کی غلطیوں سے لاکھوں حقیقی ووٹروں کو’’نا مطابقت‘‘ کے زمرے ڈال گیاہے، جس سے متاثرہ لوگوں کو اپنی شناخت دوبارہ ثابت کرنے کی پریشانی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے ہی 20 سالہ اصلاحات کو نظر انداز کیا ہے۔ ایس آئی آر پروسیس مشینی اور غیر انسانی ہے۔اس پروسیس میں دستاویزات کی رسید بھی نہیں دی جاتی ہے۔
اِدھر ٹی ایم سی کے ایک وفد نے بھی ، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھیشیک بنرجی کی قیادت میں، ای سی ای سے مل کر یہ الزامات دہرائے ہیں۔ ان کے مطابق، مغربی بنگال میں 58.2 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، اورنامطابقت کی 1.36 کروڑ شکایات پائی گئی ہیں، جو تکنیکی خامیوں کی وجہ سے ہیں۔ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کو ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور حکومت خود ووٹروں کا انتخاب کر رہی ہے۔ انہوں نے معاملے کی آن لائن سماعت کرمہاجر مزدوروں کو شامل کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ تاہم، ای سی آئی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ای سی آئی کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی پروسیس ہے، جس میں تمام پارٹیوں کو اعتراضات کا موقع دیا جائے گا۔
یہاں کون صحیح ہے اور کون صحیح نہیں ہے، اس سوال سے قطع نظر یہ طے ہے کہ یہ تنازع جمہوریت کی بنیاد یعنی ووٹنگ کے عمل کی شفافیت پر ایک سوال کی مانند ہے۔ ایک طرف، ممتا کے الزامات درست ہو سکتے ہیں تو ظاہر ہے یہ ای سی آئی کی تکنیکی استعداد پر سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف،ای سی آئی کا موقف ہے کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو صاف ستھرا کرنے کی ضروری پروسیس ہے۔ اس طرح اگر ای سی آئی کا یہ کہنا درست ہے ، تو اس میں شفافیت بھی ہونی چاہئے تاکہ ممتا بنرجی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ای سی آئی کوٹی ایم سی کی شکایات کا شفاف جواب دینا چاہیے اورایس آئی آر پروسیس میں اصلاحات لانی چاہئیں، جیسے آن لائن آپشنز اور رسید سسٹم وغیرہ۔
بہر کیف، بھارت کے باشعور شہریوں کی سوچ یہی ہے کہ سرکاری اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنا اوررہنا بے حد ضروری ہے، ورنہ ان پر عوامی اعتماد کمزورہوگا۔ ممتا بنرجی اور مرکزی حکومت کو مکالمے کی طرف بڑھنا چاہئے، تاکہ مغربی بنگال کی سیاست تنازعات کی بجائے ترقی پر مرکوز ہو۔ سپریم کورٹ کو بھی چاہئے کہ ای ڈی کی پٹیشن پر فوری سماعت کرے اور معالے کے فوری حل کی کوئی صورت نکالے۔ظاہر ہے، اگر یہ مسائل جلدی حل نہیں ہوئے تو یہ نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی جمہوریت پر بھی منفی اثرات مرتب کریں گے۔

