’سوچھ بھارت‘کو یقینی بنانے کی ضرورت

تاثیر 6 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اندور، جسے مسلسل آٹھ سالوں سے’’ سوچھ بھارت ابھیان‘‘ میں ملک کا سب سے صاف شہر قرار دیا جا رہا ہے، کو وہاں کے آلودہ پانی نے پوری دنیا میں بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ شہر کے بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی پینے سے اب تک 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔شروع میں تقریباً 400 لوگ ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ان میں سے 150 سے زائد اب بھی زیر علاج ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، بحران ابھی تھما نہیں ہے۔نئےنئے کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس سانحے نے شہر کی صفائی کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑا کر دئے ہیں۔ ایک ایسے شہر ، جسے ویسٹ مینجمنٹ میں قومی سطح پر نمبر ون پوزیشن حاصل ہے، پینے کے پانی کے معاملے میں اس قدر آلودہ کیسے ہو سکتا ہے؟  اس سوال نے سب کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔
  ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بھاگیرتھ پورا کی نرمدا پانی کی ٹنکی کے قریب واقع پولیس چوکی کے ٹوائلٹ کا گندا پانی سپلائی لائن میں مل گیا تھا۔گرچہ اندور کے کلکٹر شیوم ورما کے مطابق اس خامی کو درست کر دیا گیا ہے اور زونل افسران پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں،اصل مسئلہ شہر کی پانی کی نگرانی کے نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا ہے۔ سابق قومی نوڈل افسر،ڈرکنگ واٹر سیکورٹی، سدھندر موہن شرما کا کہنا ہے کہ سوچھتا کی درجہ بندی میں پانی کی صفائی کا حصہ صرف 7-8 فیصد ہے، جو اس کی ترجیح کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اندور جیسے شہر میں روزانہ کم از کم 10 سیمپلز اور ماہانہ 300 سے زائد ٹیسٹ کیے جانے چاہئیں تاکہ آلودگی کا بروقت پتہ چل سکے۔ اگر ایسا ہوتا رہتا تو یہ سانحہ قطعی طور پر رونما نہیں ہوتا۔
اندور کی صفائی کی دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ شہر نے 2025 کے سروے میں سورت کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ویسٹ مینجمنٹ، صفائی مہمات اور ٹوائلٹس کی تعمیر سے شہر کی تصویر چمکائی گئی ہے۔ لیکن یہ سب سطحی ہیں۔ اصل میں، ڈرینج اور پانی کی سپلائی لائنوں کی دیکھ بھال میں سنگین کوتاہی ہوئی ہے۔ بھاگیرتھ پورا کے علاوہ کھنڈوا ناکہ، بھاونانگر اور لمبوڑی جیسے علاقوں سے بھی آلودہ پانی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ وہاں ڈرینج لائنوں کی مرمت کے دوران بورنگ کا پانی گندا ہو رہا ہے، اور ہینڈ پمپ سے مٹی جیسا گندا پانی نکل رہا ہے۔ مقامی رہائشی دیپک کے مطابق کئی بار شکایات درج کروا ئی جاچکی ہیں، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ظاہر ہے، یہ صورتحال صفائی کے معاملے میں بلدیہ کی غیر سنجیدگی کوظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔
عوامی سطح پر، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں اکثریت غریب اور کمزور طبقات کے لوگ ہیں۔ 19 سالہ پریانشی  اگوریا، جو چھ ماہ کی حاملہ ہیں، کو الٹی دست کی شکایت تھی۔ علاج کے لئے انھیں تین تین ہسپتالوںکے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے شوہر ابھینو کا کہنا ہے کہ’’ نجی ہسپتال میں 15-20 ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا، جو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بھی کارڈ اور دیگر شرائط کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ آخر کار ایم ٹی ایچ ہسپتال میں داخلہ ملا، جہاں علاج پر 8-10 ہزار روپے خرچ ہوئے، جو رشتہ داروں کی مدد سے پورے کیے گئے۔‘‘ بچوں، خواتین اور بزرگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق، تین کرایہ دار فیملیاں علاقہ چھوڑ کر جا چکی ہیں، جو ہیں ان میں سے بیشتر سرکاری کلینکوں کا چکر کاٹ رہی ہیں۔ یہ سانحہ صرف صحت کا بحران نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی ناانصافی کی عکاسی بھی ہے۔ غریب لوگ، جو روزانہ کی کمائی پر منحصر ہیں، علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔
حکومت اور بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بحرانوں سے نمٹیں۔ کلکٹر کی تشکیل کردہ کمیٹی ایک اچھا قدم ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ ’’سوچھ بھارت ابھیان‘‘ کو صفائی کی سطح سے آگے بڑھا کر پانی کی نگرانی کو مرکزی حیثیت دینی چاہئے۔ پانی کی کوالٹی سرویلانس اور مانیٹرنگ کو لازمی بنایا جائے، جیسا کہ حکومت کے مینوئلز میں تجویزکی گئی ہے۔ ذمہ دار افسران پر نہ صرف تادیبی کارروائی ہو ، بلکہ مستقبل میں ایسی لاپروائی کے تدارک کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں۔ ٹینکروں سے پانی کی سپلائی عارضی حل ہے،مستقل طور پر پائپ لائنوں کی مرمت اور ڈرینج سسٹم کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ویسے موجودہ سانحے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وقت پر پانی کی جانچ ہوتی تو یہ ہلاکتیں روکی جا سکتی تھیں۔ عوام کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اندور جیسے شہر، جو ملک کے لئے مثال ہیں، کو اس طرح کے بحران سے اپنی ساکھ کو داغدار نہ ہونے دیا جائے۔ حکومت کو فوری طور پر متاثرین کو معاوضہ اور مفت علاج فراہم کرنا چاہئے۔ساتھ ہی دیگر علاقوں میں بھی پانی کی جانچ تیز کی جائے۔ یہ وقت ہے کہ سوچھتا کے دعووں کو حقیقت میں تبدیل کیا جائے، ورنہ ایسے سانحات بار بار رونما ہوتے رہیں گے۔یہ ذہن نشیں رہے کہ عوام کی آواز کو سننے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے سے ہی ’’سوچھ بھارت ابھیان‘‘ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔