کالج ،یونیورسیٹی کیمپس میں مساوات کی دستک

تاثیر 27 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی اعلیٰ تعلیم گاہیں محض ڈگری تقسیم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ سماج کے ذہن، مزاج اور مستقبل کو تشکیل دینے والی لیبارٹریز  ہیں۔ ایسے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا نیا ’’یوجی سی ایکویلیٹی ریگولیشنز، 2026‘‘ ایک ایسے قانونی و اخلاقی مداخلت کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ان اداروں کو واقعی آئین کے دیے ہوئے مساوات کے اصول کا عملی میدان بنایا جائے، نہ کہ صرف پراسپکٹس اور دیواروں تک محدود نعرہ۔
اس قانون کی روح یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کو نہ صرف اخلاقی برائی بلکہ ایک باقاعدہ قابلِ گرفت خلاف ورزی مانا جائے۔ اب تک عموماً یہ ہوتا رہا ہےکہ دلت، آدیواسی یا پسماندہ طبقات کے طلبہ و اساتذہ اگر کسی طرح کے امتیاز کا شکار بھی ہوتے تو اسے ذاتی تجربہ، چھوٹی موٹی زیادتی یا پھر ’’ایڈجسٹ کر لو‘‘ والے مشوروں کے نیچے دفن کر دیا جاتا تھا۔15 جنوری، 2026 سے نافذالعمل نیا ضابطہ اس رویے کو چیلنج کرتا ہے۔ساتھ ہی متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ باضابطہ کمیٹیاں، شکایتی نظام اور جواب دہی کے میکانزم قائم کریں، شکایت درج ہو تو اس کی سماعت اور کارروائی وقت بند طریقے سے ہو، اور قصورواروں کے لئے واضح تادیبی سزائیں بھی طے کی جائیں۔
اس ضابطے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں مساوات کو محض نعرہ یا اخلاقی مشورہ تک محدود نہیں رکھا گیا ہے، گورننس کی زبان میں ڈھال کر اسے ادارہ جاتی ذمہ داری سونپنے کا ایک آلہ بنایا گیا ہے۔ یعنی اگر کسی کیمپس میں ذات پات کی بنیاد پر مسلسل ہراسانی، ذہنی دباؤ یا تعلیمی نقصان کے واقعات سامنے آتے ہیں تو متعلقہ یونیورسٹی یا کالج محض ’’ہمیں علم نہیں تھا‘‘ کہہ کر نہیں بچ سکے گا، اب اسے دکھانا ہوگا کہ اس نے پیش بندی کے لئے کیا اقدامات کیے ، شکایت آنے پر کیا رویہ اختیار کیا گیا، اور قصوروار کو کیا سزا دی گئی۔ اس سے نہ صرف متاثرہ طلبہ و اساتذہ کو اخلاقی حوصلہ ملے گا بلکہ ادارہ جاتی ثقافت میں بھی ایک سنجیدہ تبدیلی کی فضا بنے گی۔
اس قانون پر جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، ان میں اکثر کا تعلق سیاسی تعبیر سے زیادہ ، اصولی بحث سے کم ہے۔ کوئی اسے سماج کو بانٹنے والا قدم کہہ رہا ہے، کوئی اسے کیمپس میں ’’شکایت کلچر‘‘ بڑھانے والا بتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں طاقت کا عدم توازن ہو، وہاں شکایت کا حق کمزور کے ہاتھ میں ایک ناگزیر اوزار کی مانند ہوتا ہے۔ جس سماج میں صدیوں سے بعض طبقات کو صرف نام کے برابر حقوق ملے ہوں، وہاں اگر قانون اُن کے لئے ایک اضافی حفاظتی دائرہ بناتا ہے تو اسے تقسیم نہیں بلکہ انصاف کی دیرینہ کمی کی جزوی تلافی سمجھنا چاہئے۔ کیمپس میں اگر واقعی سب کے ساتھ برابر سلوک ہو رہا ہے تو اس قانون کے نافذ ہونے سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
البتہ اس ضابطے کا ایک قابلِ توجہ خلا بھی ہے، جسے نظر انداز کرنا انصاف نہیں ہوگا۔ کیمپس کی زمینی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ بھی اکثر اوقات امتیازی سلوک، تعصب پر مبنی تبصرے، دقیانوسی تصورات اور بعض مواقع پر منظم بائیکاٹ جیسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کلاس روم سے لے کر ہاسٹل تک، بعض طلبہ کو صرف ان کے نام، لباس یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے، اُن کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، یا انہیں ’’دوسرا‘‘ سمجھ کر برتاؤ کیا جاتا ہے۔ نئی مساواتی ضابطہ بندی میں اگر اس پہلو کو بھی واضح اور صراحت کے ساتھ شامل کیا جاتا تو یہ قانون نہ صرف ذات پات بلکہ ہر طرح کی شناختی بنیادوں پراٹھنے والے امتیاز کے خلاف ایک جامع ڈھال بن سکتا تھا۔
اس کے باوجود، موجودہ صورت میں بھی یہ ضابطہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے کم از کم یہ پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کی حکومت اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو محض تعلیمی فضیلت کے پیمانے سے نہیں، بلکہ سماجی انصاف اور آئینی قدروں کی پاسداری کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔ اب ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں پر ہے کہ وہ اس قانون کو محض کاغذی خانہ پُری نہ بننے دیں، بلکہ اسے کیمپس کی روزمرہ زندگی، تدریسی رویوں، داخلہ پالیسیوں اور ہاسٹل کے ماحول تک لے جائیں۔
اگر ہم واقعی ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھتے ہیں، جہاں ذات، مذہب، زبان اور طبقہ کسی انسان کی تعلیمی، فکری اور پیشہ ورانہ پرواز کی رکاوٹ نہ بنے، تو ’’یوجی سی ضابطۂ مساوات، 2026‘‘ اسی خواب کی سمت بڑھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔ اسے کمزور کرنے کے بجائے مضبوط بنانا، اس میں اقلیتوں کے خلاف امتیاز کے باب کو بھی واضح کرنا، اور کیمپس کی حقیقی دنیا میں اس کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانا، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی راستہ ہے، جس سے یونیورسٹی کے در و دیوار کتابوں اور ڈگریوں کے ساتھ ساتھ مساوات، عزت اور احترامِ انسانیت کے گواہ بھی بن سکیں گے۔