تاثیر 16 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران،16جنوری:اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار نے جمعرات کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خطرات جیسے صدر ٹرمپ نے دھمکی دی، کی وجہ سے احتجاج سے متہ ثرہ ملک میں “عدم استحکام اور غیر یقینی حالات” میں شدت آ رہی ہے۔اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں نے گذشتہ ہفتے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا اگرچہ جبر اور ایک ہفتے تک انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے یہ مظاہرے کم ہوتے نظر آتے ہیں۔بدھ تک امریکہ دھمکی دے رہا تھا اگر ایران نے مظاہروں کے دوران گرفتار کردہ لوگوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد کیا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی ہو گی — اور اقوامِ متحدہ میں واشنگٹن کے ایلچی نے جمعرات کو کہا تھا، تمام ممکنات ہنوز ہمارے سامنے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی اسسٹنٹ سکریٹری جنرل مارتھا پوبی نے سلامتی کونسل کو بتایا، “ہم خطرے کے امکان والے مختلف عوامی بیانات کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ان سے ایران پر فوجی حملوں کا امکان ہے۔ مزید خرابی کو روکنے کے لیے تمام تر کوششیں ہونی چاہئیں۔”اجلاس میں ایران کے نمائندہ غلام حسین درزی نے واشنگٹن پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے پرامن احتجاج کا استحصال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ٹرمپ کے بیانات کا مقصد “بدامنی کو دوبارہ ہوا دینا” تھا۔

