اردو کونسل دربھنگہ شاخ کی میٹنگ، کتاب و رسائل کے فروغ پر زور

تاثیر 20 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضاامام): گزشتہ روز اردو کونسل دربھنگہ شاخ کی ماہانہ نشست نائب صدر و ایڈووکیٹ جناب شاہد اطہر کی صدارت میں جناب ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نائب صدر (دوئم) کے دولت کدہ پر منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں تمام زمرہ داران اور اور شرکائے محفل نے اپنے اپنے رائے کا ظہار کیا۔ سب سے پہلے اردو کونسل دربھنگہ شاخ کے نائب صدر اور میزبان ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے ہم کس طرح کام کر سکتے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے شرکا اور اردو دوست جناب لئیق منظر واجدی نے وقت مقررہ پر ماہانہ نشست کے اہتمام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت مقررہ پر نشست ہونے سے ہم خود کو متحرک رکھ پاتے ہیں اور ہمیں اپنے حصے کا کام اور دی گئی ذمہ داری کو بھی یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ قاری محمد شہاب الدین نے قول و فعل میں تضاد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہر ماہ اپنی اپنی کارکردگی کی رپورٹ دینی چاہیئے کہ ہم نے اردو کی ترویج و اشاعت کے لئے کیا کچھ کیا؟ اگلے مقرر اقرا اکیڈمی دربھنگہ کے سکریٹری اور ممبر اردو کونسل ہند دربھنگہ محمد شاہد نے اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔محب اردو جناب واصف جمال نے اظہار خیال کیا اور خود احتسابی پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اردو رسم الخط کو زندہ رکھنا ہے تو اردو کتابیں اور رسالے خرید کر پڑھنے چاہیے اور خصوصی طور پر بچوں کے رسالے جاری کرانے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں میں اردو زبان کے تعلق سے جوش پیدا کیا جاسکے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ  اردو کونسل دربھنگہ شاخ اپنا ایک سالانہ کلینڈر کی شائع کرے اور مقامی دوکانداروں کو تحفہ کی شکل میں پیش کرے۔ اس کلینڈر میں اردو رسم الخط میں ان دوکانداروں کے مختصر اشتہار دے دئے جائیں جس کے نتیجے کے طور پر انہیں نہ صرف مسرت و شادمانی کا احساس ہوگا بلکہ ان کے تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ ہم ان دوکانداروں سے اعتماد بحال کر ان کے سائن بورڈ اردو رسم الخط میں لکھوانے کو تیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ نئے نئے ریسٹورنٹ کھل رہے ہیں مگر دھیرے دھیرے اردو بک اسٹال بند ہو رہے ہیں جو کہ تشویشناک بات ہے۔ جناب واصف جمال صاحب نے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے خود کو وقف کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور تحفہ تحائف کی شکل میں اردو اخبارات و رسائل دینے کا مشورہ دیا۔نائب صدر اردو کونسل دربھنگہ شاخ ایڈووکیٹ جناب شاہد اطہر نے کہا کہ میٹنگ ہر ماہ کے تیسرے اتوار کو باقاعدگی سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھی رسالے کی خرید اور کلینڈر کی اشاعت کے لیے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مقامی دکانداروں کو اس اسکیم سے جوڑا جائے گا اور اس کے لیے تمام ذمہ داران کو مالی تعاون کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اردو کونسل کے معاون ناظم و صحافی جناب عرفان احمد پیدل کو اردو کونسل دربھنگہ شاخ کے میڈیا انچارج بنانے پر اتفاق رائے سے فیصلہ لیتے ہوئے نائب صدر جناب شاہد اطہر نے کہا کہ میونسپل کمشنر (نگر آیکت) دربھنگہ کو اردو کونسل کے پیڈ پر ایک میمورنڈم دیا جائے گا کہ وہ اپنے دفتر پر اردو رسم الخط میں تختی لگانے کو یقینی بنائیں۔اخیر میں کونسل ہند دربھنگہ شاخ کے معاون ناظم جناب عرفان احمد پیدل صاحب کی والدہ ماجدہ کی وفات اور ان کے چچا کی وفات پر اردو کونسل دربھنگہ شاخ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ان مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔اس موقع پر محب اردو جناب واصف جمال صاحب نے تمام شرکاء کو اردو رسالے بطور تحفہ عنایت فرمائیں تو وہیں نائب صدر جناب ڈاکٹر ارشد حسین سلفی صاحب کی تصنیف کردہ کتاب “آپ بیتی فکری و فنی مطالعہ” کا بھی رسمی اجراء عمل میں آیا۔ کارگزار ناظم اعلیٰ اُردو کونسل دربھنگہ شاخ ڈاکٹر جاوید اختر نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔