“اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ روزگار اور تہذیب کی پہچان ہے”— سبرت کمار سین

تاثیر 30 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفر پور (نزہت جہاں)
 “اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ روزگار اور تہذیب کی پہچان ہے”—ضلع افسر سبرت کمار سین کا یہ بیان فروغِ اردو سیمینار و مشاعرہ میں زبردست پذیرائی حاصل کر رہا تھا، لیکن اسی موقع پر ایک چبھتا ہوا سوال بھی سامنے آیا—کیا اردو کی بات کرنے والے اسٹیج پر اردو صحافیوں کی آواز غیر ضروری سمجھی گئی ڈی.آر.سی.سی. سبھاگھر میں منعقدہ اس شاندار سرکاری پروگرام میں انتظامی افسران، شعراء کی طویل فہرست موجود تھی، مگر حیرانی کی بات یہ رہی کہ ضلع کے کسی بھی فعال اردو صحافی کو نہ تو اسٹیج دیا گیا، نہ ہی اپنے خیالات رکھنے کا موقع ملا۔ یہ خاموشی اب اتفاق نہیں، بلکہ نیت پر سوال بن گئی ہے۔
اردو کی ترقی کی باتیں، مگر اردو صحافی باہر؟
ڈی ایم سبرت کمار سین نے اردو کو “میٹھی، روزگار دینے والی اور سماجی ہم آہنگی کی زبان” قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ—اگر اردو روزگار ہے، تو اردو صحافی کس کھاتے میں آتے ہیں؟ کیا ان کی محنت، ان کا قلم اور ان کی آواز اردو کی ترقی کا حصہ نہیں؟
پروگرام میں ڈویلپمنٹ کمشنر انوپم، فیروز اختر، نگران کمشنر سورندر پرتاپ سنگھ، ضلع اقلیتی فلاح افسر راجیو کمار سمیت کئی افسران موجود تھے۔
انجمن ترقی اردو کے افسران  نے اردو کے تعلیمی اور سماجی پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔ نامور شعراء نے محفل سجائی۔ وہیں گنگا- تہذیب کی مثالیں پیش کی۔ مگر زمینی حقیقت یہ رہی کہ اسی تہذیب میں اردو صحافیوں کو جگہ نہیں ملی۔
پروگرام کی منتظم عشرت جہاں (ترجمہ افسر، اردو زبان سیل) رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اردو محکمہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اردو صحافی صرف خبریں شائع کرنے کے لیے ہیں؟ کیا اردو کی نمائندگی صرف افسران اور شعراء تک محدود کر دی گئی ہے، جبکہ اردو صحافی کی کرسی خالی رہی—اور یہ خالی پن اب سوال بن چکا ہے؟
تہذیب تبھی باقی رہے گی، جب انصاف ہوگا۔ اردو کے فروغ کی بات تبھی مکمل سمجھی جائے گی، جب اردو کے قلمکاروں کو بھی اسٹیج ملے۔ ورنہ ایسے سیمینار صرف تصاویر اور تقریروں تک محدود رہ جائیں گے—اور اردو زمینی حقیقت سے دور ہوتی چلی جائے گی