تاثیر 23 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،23جنوری:ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے گذشتہ روز جمعرات کو واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ عوامی احتجاجات کے بعد تہران کا “ہاتھ بندوق کے گھوڑے (Trigger) پر ہے”، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں دل چسپی رکھتا ہے۔جون میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 12 روزہ جنگ، جس میں واشنگٹن نے بھرپور تعاون اور شرکت کی تھی، کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ اس جنگ کا اعلان کردہ مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو کمزور کرنا تھا۔ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ایک “بڑا امریکی فوجی بیڑہ” خلیج کی جانب بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ “ہم ایران کی نگرانی کر رہے ہیں”۔دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے دو ہفتوں کے احتجاجات نے علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا، تاہم کریک ڈاؤن کے بعد یہ تحریک سرد پڑ گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بلاک کر دیا گیا۔اگرچہ گذشتہ ہفتے کے دوران ایران کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کا امکان کم ہوتا نظر آیا کیونکہ دونوں فریقوں نے سفارت کاری کو موقع دینے کی بات کی، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اب بھی مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

