وینزویلا بحران اور بھارت کا متوازن موقف

تاثیر 4 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن[

وینزویلا کے حالیہ بحران نے سال کے آغاز میں ہی پوری دنیا کو اقتصادی غیر یقینی کے دور میں دھکیل دیا ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ملک کی راجدھانی کراکس اور اس کے مضافات میں دھماکوں کی آوازیں اور بجلی کے تعطل نے اس بحران کو جگ ظاہر کر دیا تھا۔ امریکی قیادت کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی اور وہاں کے منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے دعوے نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اس تناظر میں بھارت کا موقف، جو تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے مکالمے اور پرامن حل کی اپیل کرتا ہے، ایک متوازن اور ذمہ دارانہ رویے کی مثال ہے۔ یہ موقف نہ صرف بھارت کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
وینزویلا کا بحران کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ برسوں سے چلی آ رہی سیاسی، معاشی اور سماجی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ ملک کے وسیع تیل کے ذخائر، جو عالمی سطح پر 18 فیصد سے زائد ہیں، اسے جیو پولیٹیکل کشمکش کا مرکز بناتے ہیں۔ امریکی دعووں کے مطابق یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر مبنی ہے، لیکن آزاد ذرائع ان الزامات کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری پر حملہ قراردیا ہے، ساتھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ کراکس میں بدامنی، سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بحران مقامی سطح پر بھی شدید تناؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔
عالمی ردعمل بھی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک جانب روس اور چین جیسے ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور وہاں کے منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے، جبکہ دوسری جانب کچھ ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے طلب کی گئی ہنگامی میٹنگ اس بحران کی شدت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس صورتحال میں بھارت کا موقف انتہائی متوازن ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے واضح طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے پرامن حل اور مکالمے کی اپیل کی ہے۔ بھارت نے وینزویلا میں مقیم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے دہلی میں سفارت خانے کو فعال رکھنے اور ضروری مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان سے بھارت کی ذمہ دارانہ پالیسی منعکس ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق معاشی طور پر، یہ بحران عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔ وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر کے باوجود، امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس کی پیداوار محدود ہے۔ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔ظاہر ہے ، اس سے ترقی پذیر ممالک بشمول بھارت کا تیل مارکیٹ متاثر ہوگا۔ بھارت، جو پہلے وینزویلا سے تیل کا ایک بڑا خریدار تھا، اب اس کی حصہ داری کم ہو چکی ہے۔ تاہم، اگر صورتحال مستحکم ہوتی ہے تو بھارتی کمپنیاں امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تیل کی پیداوار میں حصہ لے سکتی ہیں، جو بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔ اوپیک کی اجارہ داری کمزور ہونے سے تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، جو بھارتی معیشت کے لئےفائدہ مند ہوگا۔
سیاسی طور پر، یہ بحران بڑی طاقتوں کی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی کارروائی کو بعض حلقوں میں تیل کے مفادات سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کا موقف اسے ایسی کارروائیوں سے دور رکھتا ہے اور مکالمے پر زور دیتا ہے، جو اس کی غیر اتحادی پالیسی کی بنیاد ہے۔ یہ موقف نہ صرف وینزویلا بلکہ دیگر علاقائی بحرانوں جیسے مشرق وسطیٰ یا جنوبی ایشیا میں بھی بھارت کی ساکھ کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ بھارت نے سفر کی ایڈوائزری جاری کر کے اپنے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی ہے، یہ عمل بھی اس کے احساس ذمہ داری کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس بحران کے حوالے سے بھارت کی یہ اپیل کہ تمام فریق مکالمے کے ذریعے حل کا راستہ نکالیں، عالمی امن کے لئے ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کو اس میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ خودمختاری کا احترام ہو اور تشدد سے بچا جا سکے۔ خدانخواستہ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور سیاست پر گہرے ہوں گے، لیکن پرامن حل ہی مستقل استحکام کی ضمانت ہے۔ بھارت کی اس اپیل کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری کو آگے آنا چاہئے تاکہ وینزویلا کے عوام مزید پریشانیوں سے دوچار نہیں ہوں۔
********************