تشدد سے صرف نقصان ہوگا

تاثیر 21 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال میں ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسو ریویژن) کے نام پر جاری سیاسی ہنگامہ آرائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ گزشتہ تین دنوں میں یہ تنازع مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔اس دوران جہاں ایک طرف الیکشن کمیشن نے سی ایم ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر عوام کو بھڑکانے اور خوف کا ماحول بنانے کا الزام لگایا ہے، وہیں دوسری طرف ٹی ایم سی نے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سازش قرار دے کر سپریم کورٹ کی کارروائی کو اپنی فتح بتایا ہے۔ اس درمیان، عوام کی سطح پر احتجاج اور روڈجام جیسے واقعات سے یہ واضح ہوا ہے کہ یہ محض سیاسی لڑائی نہیں، بلکہ عام شہریوں کی ووٹنگ کے حقوق اور شناخت سے جڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال بنگال کی سیاست میں ہلچل کا سبب بنی ہوئی ہے، لیکن اس کا اصل شکار عوام بن رہے ہیں، جن کی آواز سیاسی شور میں تقریباََ گم سی ہو گئی ہے۔
اس تنازع کی جڑ در اصل ایس آئی آر کا پروسس ہے۔ اس پروسس میں مبینہ طور پر 1.25 کروڑ ووٹرز کے نام ہٹائے جانے کی بات ہوا میں گردش کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس عمل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ کمیشن کا دعویٰ ہے کہ چیف منسٹر کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سےپچھلے دنوں چاکولیا جیسے علاقوں میں 700 سے زائد لوگوں نے بلاک ڈیولپمنٹ آفس پر حملہ کیا، کمپیوٹرز تباہ کیے اور مائیکرو آبزرورز کو خوفزدہ کیا۔ اس کے نتیجے میں نو مائیکرو آبزرورز نے استعفیٰ دے دیا۔ کمیشن کا یہ بھی الزام ہے کہ ٹی ایم سی کے وزراء اور ایم ایل اے ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں، جہاں الیکشن افسران اپنا کام آزادانہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس طرح کے الزامات ایس آئی آر جیسے جمہوری عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں ساتھ ہی مغربی بنگال کے قانون و انتظام کی صورتحال کو بھی کٹ گھرے میں کھڑا کرتے ہیں۔
  دوسری طرف، ٹی ایم سی کا موقف ہے کہ یہ عمل بی جے پی کی سیاسی سازش کا حصہ ہے۔بی جے پی اقلیتی اور غریب ووٹرز کو سائڈ کرکے الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کا ماننا ہے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا حکم ان کے حق میں ہے۔  عدالت نے ان کے دلائل کو قبول کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ووٹروں کی فہرست گرام پنچایت سطح پر جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بنگالیوں کو بنگلہ دیشی کہہ کر ہراساں کیا جا رہا ہے، اور بنگال میں بھی اسی طرح کی کوشش ہو رہی ہے۔ ابھیشیک نےایک عوامی جلسے میں اور بھی کئی ایسے الزامات عائد کئے ہیں، جو بظاہر الکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے والے ہیں۔حالانکہ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریاست کے حق ماری کے خلاف جب کوئی بات ہوگی تو اس میں تلخی تو رہے گی ہی۔
ویسے عوامی سطح پر یہ تنازع مزید شدت اختیارکرتے جا رہا ہے۔ ایلام بازار میں لوگوں نے ایس آئی آر کے نام پر ہراسانی کے خلاف پچھلے دنوں روڈ جام کیاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بنگلہ دیشی یا پاکستانی کہہ کر ملک چھوڑنے کو کہا جا رہا ہے۔ اسی طرح، بردوان میں فارم-7 جمع کرنے کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کارکنان کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی اور چار لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں تو اپنے ایجنڈے پر لڑ رہی ہیں، لیکن عام شہری خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔ایس آئی آر کے پروسس کے خلاف ایک طرف ٹی ایم سی اسے ریاستی خودمختاری کی لڑائی قرار دے رہی ہے، وہیں بی جے پی اور الیکشن کمیشن اسے شفاف الیکشن کی ضرورت بتا رہے ہیں۔ اس سیاسی شور میں عوام کی آواز کسی کو سنائی نہیں پڑ رہی ہے۔ایسے میں سپریم کورٹ کی مداخلت ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت آئے گی ، لیکن اسے مزید عوام دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور کمیشن کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو سادہ اور منصفانہ بنائیں، جہاں ہر ووٹر کو اپنے حقوق کی حفاظت کا موقع مل سکے۔
عوام کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیاں ایس آئی آر کو الیکشن کی تیاری کا ہتھیار نہ بنائیں۔ ٹی ایم سی کو اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہئے تاکہ تشدد نہ بھڑکے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے اور پولیس کی مدد سے افسران کی حفاظت کو یقینی بنائے۔چنانچہ بنگال کے عوام کو اس تنازع سے نکلنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاست دان عوامی مسائل جیسے روزگار، ترقی اور صحت پر توجہ دیں۔ ایس آئی آر کا عمل اگردرست اور شفاف رہا تو ظاہر ہے، اس سے ہماری جمہوریت مزیدکو مضبوط ہوگی ۔بصورت دیگر یہ مغربی بنگال کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا۔ عوام اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے پرامن احتجاج کریں اور قانونی راستہ ضرور اختیار کریں۔ساتھ ہی یہ دھیان رہے کہ تشدد سے صرف نقصان ہوگا۔