تاثیر 11 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کی مانگ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔ اگر یہ مطالبہ پورا ہوتا ہے تو ظاہر ہے یہ نتیش کمار کی طویل سیاسی خدمات اور بہار کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ان کے کردار کا پرخلوص اعتراف ہو گا۔ جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نےوزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے۔خط میں انہوں نے نتیش کمار کو سماجوادی تحریک کا ’’انمول رتن‘‘ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر گری راج سنگھ نے بھی ایسی ہی مانگ کی تھی۔ اگرچہ جے ڈی یو نے سی تیاگی کے بیان کو ذاتی خیال قرار دے کر اس سے دوری بنا لی ہے، لیکن این ڈی اے کے اتحادیوں جیسے جیتن رام مانجھی اور چراغ پاسوان نے اس کی حمایت کی ہے۔ حتیٰ کہ آر جے ڈی کے تیج پرتاپ یادو نے لالو پرساد کے لئے بھی ایسی ہی مانگ کر کے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ گرچہ یہ مطالبہ سیاسی مفادات سے جڑا ہو سکتا ہے، لیکن نتیش کمار کی خدمات کے تناظر میں سب کا یہی ماننا ہے کہ ہر اعتبار سے وہ اس کے اہل ہیں۔
نتیش کمار کی سیاسی زندگی کا آغاز سماجوادی تحریک سے ہوا ہے، جہاں وہ جے پرکاش نارائن اور کرپوری ٹھاکر جیسے لیڈروں کے زیر اثر انھوں نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا ہے۔ انہوں نے بہار کو مبینہ’’جنگل راج‘‘ سے نکال کر’’ سوشاسان‘‘ کی طرف لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 2005 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد، انہوں نے ریاست کی سڑک، بجلی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ بہار کی جی ڈی پی میں اضافہ، غربت کی سطح میں کمی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ان کی قیادت کی زندہ مثالیں ہیں۔ خاص طور پر، خواتین کی بااختیاری میں ان کا کردار لائق تحسین ہے۔ پنچایتوں میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کے لئے ایک مثال ہے۔ اس سے لاکھوں خواتین کو سیاسی میدان میں آگے آنے کا موقع ملا۔ ظاہر ہے،یہ سماجی انصاف کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوا ہے۔
نشہ بندی کی پالیسی بھی نتیش کمار کی جرأت مندانہ قیادت کی علامت ہے۔ اگرچہ یہ متنازع رہی اور اس پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے، لیکن اس سے بہار کے دیہی علاقوں میں سماجی برائیوں کو کم کرنے میں واضح طور پر کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ، پسماندہ طبقات اور دلتوں کے لئے کیے گئے اقدامات، جیسے’’ مہادلت وکاس مشن‘‘ اور’’ طلبہ کریڈٹ کارڈ اسکیم‘‘ نے معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنایا ہے۔ نتیش کمار نے راشٹریہ سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کی ہے۔ این ڈی اے اور اپوزیشن دونوں کے ساتھ اتحاد کر کے، انہوں نے بہار کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ 2024 کے انتخابات میں ان کی حمایت نے بی جے پی کو بہار میں کامیابی دلائی۔ کرپوری ٹھاکر اور چودھری چرن سنگھ کو بھارت رتن دینے کے بعد،کے سی تیاگی کا خط اسی تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے کہ باحیات رہنماؤں کو بھی یہ اعزاز مل سکتا ہے۔
تاہم، سیاسی گلیاروں میں یہ چرچہ ہے کہ کے سی تیاگی کا یہ قدم ذاتی مفادات سے جڑا ہو سکتا ہے، جیسے ریاستی اسمبلی کی سیٹ کی خواہش یا پارٹی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش۔جے ڈی یو کی طرف سے، کے سی تیاگی کے بیان سے دوری بنائے جانے کو لے بھی قیاس آرائیوں کا بازار کرم ہے۔پارٹی کے کچھ لوگ اس مطالبے کو دزدیدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کو لگ رہا ہے کہ نتیش کمار کو فعال سیاست سے الگ کرنے کے لئے اس طرح کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ گری راج سنگھ کی 2024 کی مانگ کو بھی اسی طرح انتخابی فائدے کےنقطۂ نظر سے دیکھا گیا تھا۔اس کے باوجود، نتیش کمار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بہار کو ایک پسماندہ ریاست سے ابھرتے ہوئے اقتصادی مرکز میں تبدیل کیا ہے۔ سماجی انصاف، سوشاسن اور ترقی کے ایجنڈے نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدلی ہیں۔ اگر باحیات لوگوں ، جیسے پرنب مکھرجی، اٹل بہاری واجپئی اور ایل کے اڈوانی وغیرہ کو ’’بھارت رتن‘‘ دیا جا سکتا ہےا، تو نتیش کمار کیوں نہیں دیا جا سکتا ہے؟ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہوگا بلکہ بہار کے لوگوں کے لئے بھی ایک بڑا اعزاز ہوگا، جو نتیش کمار کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔
بہر حال، نتیش کمار کو ’’بھارت رتن‘‘ دینا گویا سماجوادی اقدار اور سماجی انصاف کی قدردانی کا اظہار ہوگا۔ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر، حکومت کو ان کی خدمات کا کھلے دل سے ا عتراف کرنا چاہئے۔ اس قدم سے نہ صرف ایک اچھی مثال قائم ہوگی بلکہ اس سے بہار کی سیاست کو ایک مثبت سمت بھی ملےگی۔بلا شبہ نتیش کمار جیسی شخصیات ملک کی ترقی کی بنیاد ہیں۔ ان کی خدمات کا احترام و اعتراف قوم کی ذمہ داری ہے۔

