تاثیر 14 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، مگر جب ہم بہار کے مدھے پورہ ضلع کے بھیروپٹی گاؤں میں پچھلے ہفتے ہوئے حنا پروین کےقتل کو دیکھتے ہیں تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا ہمارا سماج اور انتظامیہ واقعی غیر جانبدار ہے؟ 31 سالہ بیوہ حنا پروین، جو چھ بچوں کی ماں تھی، کو 3 جنوری کو اغوا کیا گیا، اسے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔حنا پروین کی لاش 6 جنوری کو بھوسے بھری ایک جھونپڑی سے برآمد ہوئی۔ جسم پر روح کو تڑپا دینے والے زخموں کے نشانات تشدد کی وحشت ناکی کی گواہی دے رہے تھے۔ یہ سانحہ ایک خاندان کی تباہی کے ساتھ ساتھ سماج کے ضمیر پر ایک داغ کی مانند ثبت ہو چکا ہے۔ تاہم، پولیس کے ذریعہ دیر سے ہی سہی، کی گئی کارروائی اور کچھ سیاسی رہنماؤں کے ذریعہ کیا گیا اظہار ہمدردی اطمینان بخش ضرور ہے۔
حنا پروین ایک غریب مسلم خاتون تھی۔اس کے شوہر کی ایک سال قبل گردوں کی بیماری سے موت ہو چکی تھی۔ وہ مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی تھی۔وہ گاؤںکے ہی چندن کمار اور کندن کمار نام کےیہاں کام کرتی تھی۔ 3 جنوری کی دیر رات تین چار مسلح لوگوں نے اس کے بچوں کے سامنے حنا پروین کا اغوا کر لیا۔ تین دنوں تک اس کا کچھ پتا نہیں چلا۔پھر 6 جنوری کو اس کی لاش بر آمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر، 8 دن بعد پولیس نے چندن کمار اور کندن کمار کے ساتھ ساتھ محمد قیوم نام کے ایک تیسرے ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اے ایس پی پرویندر بھارتی کے مطابق مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اجتماعی زیادتی کی تصدیق ایف ایس ایل رپورٹ سے ہوگی۔ رپورٹ کا انتظار ہے۔پولیس کی کارروائی قابل ستائش ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے ریاستی مشینری نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا ہے اور کارروائی کی ہے۔
سماجی تناظر میں،حنا پروین کے ساتھ ہوا یہ ظلم نربھیا کیس (2012) سے موازنہ کی دعوت دیتا ہے۔یاد کیجئے، نربھیا سانحے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیاتھا۔ عوام سڑکوں پر نکل پڑے تھے۔ میڈیا نے اس سانحے کو خاطر خواہ کوریج دیا تھا۔پارلیمنٹ میں بحث کے بعد قوانین میں ترامیم کی گئی تھیں۔اس وقت نربھیا ایک قومی علامت بن گئی تھی۔ لیکن حنا پروین کے معاملے میں قومی سطح پر وہ اضطراب نظر نہیں آیا۔ میڈیا کوریج محدود، عوامی احتجاج کمزوراور سیاسی بحثیں سطحی ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کی وجہ حنا کی مسلم شناخت، غریب پس منظر اور دیہی علاقہ ہے؟ یہ امتیازی سلوک سماج کے پیمانے پر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انصاف متاثرہ کی سماجی حیثیت سے طے ہوتا ہے؟ مقامی سطح پر کچھ یوٹیوب چینلز اور اے آئی ایم آئی ایم رہنماؤں نے انتظامیہ کی ناکامی کو ضرور ا جاگر کیا ، مگر اس میں فرقہ وارانہ سیاست کا تھوڑا رنگ ملا ہوا تھا۔ گاؤں کی مخلوط آبادی (ہندو، مسلم، یادو اور وشیہ) میں پہلے کبھی فرقہ وارانہ تنازع نہیں تھا، مگر اس واقعے نے ممکنہ طور پر تقسیم کی لکیریں کھینچ دی ہیں۔
تاہم، اس تاریکی میں کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جنھیں مقامی لوگ امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پورنیہ کے ایم پی پپو یادو نے مہلوکہ حنا کے گھر جا کر اس کے بچوں سے ملاقات کی۔انھیں 50 ہزار روپے کی فوری امداد دی ۔ساتھ ہی ہر ماہ 10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا، جب تک بچے خود کفیل نہ ہوجائیں۔ اس کے علاوہ، بچیوں کی شادی پر 25 ہزار روپے کی مدد کا اعلان بھی کیا۔ مدھے پورہ کے آر جے ڈی ایم ایل اے پروفیسر چندر شیکھر اور مہیشی کے ایم ایل اے گوتم کرشن نے بھی دورہ کیا ، بچوں کے آنسو پونچھے اور انھیں سہارا دینے کا وعدہ کیا۔ یہ اقدامات محض سیاسی نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کی مثالیں ہیں، جو مذہب اور ذات سے بالاتر ہیں۔ پپو یادو نے بہار حکومت سے 20 لاکھ روپے معاوضہ اور تین ماہ میں ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔یہی انصاف کا تقاضہ بھی ہے۔یہی وہ چیزیں ہیں ، جن سے لگتا ہے کہ سیاست میں بھی انسانیت زندہ ہے اور نفرت بھرے ماحول میں یہی انسانیت سماج کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔
حنا پروین کا بہیمانہ قتل یہ سبق دے گیا ہے کہ ہمارا سماج خودمختار بیواؤں کو قبول کرنے میں اب تک ناکام ہے۔ حنا جیسی غریب خاتون، جو مزدوری کر کے اپنے بچوں کی پرورش کر رہی تھی، کو ممکنہ طور پر بری نظر کا شکار بنایا گیا۔یہ سانحہ بتا گیا کہ جب سماج بے حس ہوجاتا ہے تو طاقتور بے خوف اور کمزور غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ سیاسی طور پر، یہ واقعہ بہار کی انتظامیہ سے تقاضہ کرتا ہے وہ ایسے جرائم کو روکنے کےلئے فوری طور پرسخت اقدامات کرے ۔ساتھ ہی یہ واقعہ چینخ چینخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ حنا پروین کا قتل صرف حنا پروین کانہیں، بلکہ سماج کے ضمیر کا قتل ہے۔ ایسے میںہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ ہر مظلوم عورت کے لئے ہمارا ردعمل یکساں ہو۔ پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مکمل انصاف ہو، مجرموں کو سخت سزا ملے اور حنا کے بچوں کی کفالت کا انتظام ہو۔ اگر نربھیا نے قوانین بدلے، تو حنا پروین ہمیں سماج بدلنے پر مجبور کرے۔ ساتھ ہی ہم خود سے بھی یہ سوال کریں کہ اپنابھارت اگر جمہوری قدروں کا علمبردار اور انصاف پسند ملک ہے تو پھر اپنا سماج اتنا سفاک اور بےحِس کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟

