تاثیر 4 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی میں 3 فروری، 2026 کو وزیر خزانہ بجندر پرساد یادو نے مالی سال 2026-27 کے لئے 3.47 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ نتیش کمار حکومت کا ،انتخابات کے بعد پیش کیا جانے والا یہ پہلا مکمل بجٹ ہے۔یہ رواں مالی سال کے 3.17 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ سے تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ’’گیان، ایمان، وگیان، ارمان اور سمّان کے اصولوں پر مبنی یہ بجٹ بہار کو تیزی سے آگے لے جائے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ریاست کی معاشی ترقی کی شرح 14.9 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو قومی اوسط سے کافی بہتر ہے اور ریاست کی مضبوط معاشی رفتار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت تعلیم کے شعبے کو دی گئی ترجیح ہے۔ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے کل 68,216.95 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مجموعی بجٹ کا تقریباً 19.63 فیصد بنتا ہے۔ریاست کے کسی دوسرے محکمے کو ملی یہ سب سے بڑی رقم ہے۔ اس رقم سے سرکاری اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر اساتذہ کی تعیناتی، ڈیجیٹل تعلیم کا فروغ،ا سمارٹ کلاس رومز، ماڈل اسکولوں کی ترقی اور غذائی منصوبوں کو مضبوطی ملے گی۔ اب تک 2,27,195 اسکول ٹیچرز، 28,748 پرنسپل ٹیچرز اور 4,699 ہیڈ ماسٹرز کی تعیناتی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں 672 اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتی ہو چکی ہے۔ خصوصی ضروریات والے بچوں کے لئے 7,279 ا سپیشل ٹیچرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔
طلبہ کی فلاح و بہبود کے لئے بھی، بجٹ میں ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ کلاس 1 سے 8 تک کے 1.19 کروڑ طلبہ و طالبات کو 2025-26 میں 11.50 کروڑ نصابی کتابیں مفت تقسیم کی گئیں، اور 2026-27 میں 12.50 کروڑ کتابوں کی تقسیم کا ہدف رکھا گیا ہے۔مکھیہ منتری پوشاک یوجنا، سکالرشپ، سائیکل اسکیم وغیرہ کے تحت 2.20 کروڑ مستفیدین کو 4,755 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت 1.04 کروڑ بچوں کو روزانہ غذائیت سے بھرپور کھانا مل رہا ہے اور 18,669 اسکولوں میں پوشن واٹیکا تعمیر ہو چکی ہے۔ تعلیمی عملے کے لئے سمارٹ فون کی خریداری پر 10 ہزار روپے کی مدد اور تنخواہ میں اضافہ (جیسے فزیکل ایجوکیشن انسٹرکٹرز کی 8,000 سے 16,000 روپے) سے ملازمین کا حوصلہ بلند ہوگا۔
بجٹ میں دیہی ترقی کو دوسری سب سے بڑی ترجیح دی گئی ہے، جہاں 23,701 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے دیہی سڑکیں، نل کا پانی، صفائی، رہائش اور روزگار کے منصوبوں کو رفتار ملے گی، جو ہجرت روکنے اور مقامی روزگار بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔ سڑک تعمیر کے لئے 18,716 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا کے تحت 1.56 کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دیے گئے اور آگے 2 لاکھ روپے اضافی مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔ 94 لاکھ غریب خاندانوں کو بااختیار بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس بجٹ میں صحت، خواتین، نوجوانوں، کسانوں اور انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔بجٹ کا سائز بڑھنے کے ساتھ ساتھ کیپیٹل ایکسپینڈیچر میں بھی63,455 کروڑ روپے کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نتیش کمار حکومت نے اس بجٹ کو ’’شمولیتی اور ترقی پسند‘‘ بتایا ہے، جو سات نشچے-3 کے عہد کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے بہار کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لئے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ بجٹ ترقی یافتہ بہار کے خواب کو حقیقت میں بدلنے والا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہار بجٹ، 27۔2026 محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ بہار کےعوام کے خوابوں کو پورا کرنے سے متعلق حکومت کےپختہ عزم کی عکاسی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور دیہی ترقی پر مرکوز یہ وِژن ریاست کو خودمختار اور خوشحال بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ اگر عمل درآمد موثر رہا تو 13 کروڑ کی آبادی والا بہار نہ صرف پس ماندگی کی شبیہ سے باہر نکل سکے گا، بلکہ ترقی کی نئی مثالیں قائم بھی کرے گا۔اس اعتبار سے یہ مانا جا رہا ہے کہ اس بار کا بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ بہار کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے والی ایک اہم دستاویز ہے۔

