تاثیر 4 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مشرقی چمپارن، 4 فروری : بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ٹھگوں نے بے روزگار نوجوانوں کو’’پولیس متر‘‘نوکری کا جھانسا دیکرلاکھوں روپے کی ٹھگی کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فراڈ تھانہ احاطے میں ہوا تھا اور پولیس افسران اس سے لاعلم تھے۔
حالانکہ اس واقعے کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ سورن پربھات کی ہدایت پر ایف آئی آر درج کی گئی اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ اس دھوکہ دہی میں ملوثجرائم پیشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ٹرینی آئی پی ایس افسر ہیمنت سنگھ کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں کوئرگاوا، کوٹوا تھانہ کے رہائشی روی کمار یادو نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں کہا کہ جون 2025 میںچار نوجوانوں نے اس سے رابطہ کیا اور اسے پولیس متر اور ایک تنظیم میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کی نوکری دلانے کے بہانے اس سے 4 لاکھ روپیکا دھوکہ کیا۔
روی نے پولیس کو آن لائن کیش ٹرانسفر کا ثبوت فراہم کیا۔ اس کے ساتھہی مذکورہ گرہ نے اسے آئی کارڈ دے کر کوٹوا میںہی جوائننگ بھی کرا دیا۔ اس سے کہا گیا کہ آپ دیگر نوجوانوںکوبھی اس نوکری کیلئے لے کر آئے، آپ کو تنخواہ دیا جائے گا۔ اتنا ہی شاطر ٹھگوں نے خود کو بااثر بتا کر موتیہای اور آس پاس کے علاقوںکے تقریباً 42 نوجوانوں کو پولیس متر کے طور پربحالی کالالچ دیا۔ ٹھگ نے دعویٰ نے کیا کہ انہیں محکمہ پولیس سے جوڑا جائے گااور ہر ماہ 16 ہزا رروپے تنخواہ ملے گی۔

