لداخ میں سرحد کے قریب ریڈیو اسٹیشن آنلے خبروں اور تفریح کا ذریعہ بن گیا

تاثیر 28 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لداخ, 28 فروری۔ہند-چین سرحد کے قریب بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان واقع ہانلے کی چھ بستیوں میں سرد صبحوں کے دوران فضا میں گونجنے والا خوشگوار لفظ ’جُلے‘ اب مقامی باشندوں کے لیے خبروں اور تفریح کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن آنلے 89.6 دور دراز علاقے میں عوام کو اطلاعات اور معلومات فراہم کر رہا ہے، جہاں ذرائع ابلاغ کے دیگر وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

نومبر 2024 میں ہندوستانی فوج کی آپریشن سدبھاوَنا کے تحت قائم کیا گیا یہ ریڈیو اسٹیشن ’جہاں ستارے ملے‘ کے نعرے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ تین کمروں پر مشتمل ایک عمارت سے نشر ہونے والے اس اسٹیشن میں چار مقامی افراد خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں ایک اسٹیشن منیجر، ایک ساؤنڈ انجینئر اور دو ریڈیو جوکی شامل ہیں۔

اسٹیشن منیجر کنزنگ ڈسکٹ کے مطابق ریڈیو اسٹیشن مقامی آبادی کو بیرونی دنیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہاں آل انڈیا ریڈیو کی نشریات واضح طور پر موصول نہیں ہوتیں۔ انہوں نے بتایا کہ پروگراموں میں سرکاری اسکیموں کی تفصیلات، موسم کی تازہ معلومات، زرعی رہنمائی، تعلیمی اور صحت سے متعلق موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

ریڈیو جوکی تسیرنگ لامو نے بتایا کہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک نشریات جاری رہتی ہیں۔ صبح 9 سے 11 بجے تک حوصلہ افزا گفتگو، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم معلومات پیش کی جاتی ہیں، جبکہ 11 سے 1 بجے تک ’آنلے کی آواز‘ کے عنوان سے طلبہ، تعلیم اور صحت پر پروگرام نشر کیا جاتا ہے۔ دوپہر 1 سے 3 بجے تک لداخی ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور شام 3 سے 6 بجے تک ’ایوننگ بنداس‘ میں بالی ووڈ اور لداخی موسیقی شامل ہوتی ہے، جو سامعین میں خاصی مقبول ہے۔