تاثیر 14 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ،14فروری(ہ س)۔ نیٹ طالبہ موت معاملے میں سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ داس کی گرفتاری کی خبریں ہیں، حالانکہ پولیس نے ابھی تک کوئی جانکاری جاری نہیںدی ہے۔ امیتابھ داس کے خلاف پٹنہ کے چترگپت نگر تھانہ میں نیٹ طالبہ موت معاملے میں مقدمہ نمبر 44/26 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر افواہیں پھیلانے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
جمعہ کے روز سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ داس کے پاٹلی پتر اپارٹمنٹ پر چھاپہ ماری کی گئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق چھاپہ ماری کے دوران ان کے گھر سے کچھ شواہد اکٹھے کیے گئے۔ ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر ممکنہ شواہد کی جانچ کی گئی۔ حکام نے کمپیوٹر اور موبائل ڈیوائس کے ڈیٹا کی بھی جانچ کی۔
پولیس نے اس بات کا انکشاف نہیں کیا ہے کہ سابق آئی پی ایس افسر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’برآمد ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک جانچ پڑتال کی جائے گی جس کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا‘۔ پولیس ذرائع کے مطابق انہیں آج عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس دوران سابق آئی پی ایس افسر نے ایک میڈیا انٹرویو میں کی گئی کارروائی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے جان بوجھ کر پھنسایا جا رہا ہے، میں نے صرف مفاد عامہ میں سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چھاپہ ماری کے دوران ان کے گھر میں غیر قانونی مواد تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
حال ہی میں سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ داس نے نیٹ طالبہ موت معاملے میں کئی بیانات دیے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کا نام لیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔

