امریکہ کی ایران کے خلاف طویل جنگ کی تیاری ،امریکی افواج کارروائی کیلئے کمربستہ

تاثیر 14 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،14فروری(ہ س)۔ایک طرف جنیوا میں مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں، تو دوسری طرف امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ایسی فوجی کارروائی کے لیے کمر بستہ ہو رہی ہے جو محض ایک دن کے بجائے کئی ہفتوں پر محیط ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصادم ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، پینٹاگان مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کمک ہزاروں اضافی فوجی، جدید ترین لڑاکا طیارے، گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز اور دفاع اور حملے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والا جنگی ساز و سامان شامل ہو گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بار منصوبہ بندی انتہائی پیچیدہ ہے۔ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکم دیتے ہیں، تو امریکی فوج صرف ایران کے جوہری ڈھانچے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ حکومتی اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر “مڈ نائٹ ہیمر” کے نام سے ایک آپریشن کیا تھا، جو صرف ایک رات جاری رہا۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر میں ایک امریکی اڈے پر محدود جوابی کارروائی کی تھی۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار خطرہ بہت بڑا ہے کیونکہ ایران کے پاس میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو پورے خطے میں بد امنی اور وسیع تر جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔وائٹ ہاوس کی ترجمان آنا کیلی نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے “تمام آپشنز میز پر موجود ہیں”۔ شمالی کیرولائنا میں امریکی افواج سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے متنبہ کیا بعض اوقات (دشمن کو) خوف محسوس کروانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو مسئلے کو حقیقت میں حل کرے گا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔