بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستانی فوج کے کئی کیمپوں پرکیا قبضہ

تاثیر 4 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کوئٹہ (بلوچستان)4 فروری (ہ س)۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جنگجوؤں نے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں شدید لڑائی کے دوران پاکستانی فوج کے کئی کیمپوں اور چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دریں اثنا، بی ایل اے کی جانب سے 31 جنوری کو شروع کیے گئے آپریشن ہیرو کے پیش نظر صوبے میں مواصلاتی خدمات مکمل طور پر درہم برہم ہیں۔ حکومت نے ریل اور بس سروس بھی معطل کر دی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی نے آج ضلع نوشکی کے علاقے احمدوال میں پاکستانی فوج کے کیمپ سمیت کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ احمدوال نوشکی شہر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے نوشکی سے 34 کلومیٹر دور گلگور میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے فوج کا تمام اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا۔
بی ایل اے نے نوشکی سمیت 12 قصبوں میں پاکستانی فوج کے کیمپوں اور چوکیوں پر بیک وقت حملے کیے ہیں۔ نوشکی کے نواح میں بی ایل اے اور فوج کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان ریلوے نے کوئٹہ سے چمن تک ڈومیسٹک ٹرین سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ نے کہا ہے کہ کراچی سے کوئٹہ تک بولان میل سروس 12 فروری تک معطل رہے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے اندور ملک اور چمن تک ٹرین سروس معطل ہونے سے محکمہ کو 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ادھر پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی ڈی آئی خان لورالائی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سے تفتان تک قومی شاہراہ بھی پانچ روز سے بند ہے۔