تاثیر 13 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بنگلہ دیش کی سیاست نے، 2026 کے عام انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ 2024 کی طلبہ تحریک کے ذریعے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر لی ہے۔پارلیامنٹ کی کل 300 سیٹوں میںسے بی این پی اور اس کی حلیف جماعتوں نے 212 سیٹیں جیت لی ہیں۔ جبکہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور اس کی حلیف جماعتوں کو 77 سیٹیں ملی ہیں۔باقی سیٹیں آزاد امیدواروں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی جھولیوں میں گئی ہیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے صدرطارق رحمٰن، جو لندن میں 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر 2025 میں واپس آئے تھے، نے دو نشستوں (ڈھاکہ:17 اور بوگرا:6) پر شاندار فتح حاصل کی ہے۔ اور اب وہ وزیر اعظم کی ذمہ داری سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ فتح نہ صرف بی این پی کی بلکہ طارق رحمٰن کی سیاسی استقامت اور قیادت کی صلاحیت کا بین ثبوت ہے۔طارق رحمٰن کی کامیابی خاندانی تسلسل کے ساتھ ایک سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی داستان ہے۔ ضیاء الرحمٰن اور خالدہ ضیا کے بیٹے نے جلاوطنی کے دوران بھی پارٹی کو متحد رکھا، سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں سے رابطہ قائم کیا اور والدہ کی وفات (دسمبر، 2025) کے بعد قیادت کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کی انتخابی مہم نے نوجوان ووٹرز کو متوجہ کیا اور تبدیلی کا وعدہ کیا، جس میں آئینی اصلاحات جیسے وزیر اعظم کی دو مدت کی حد، دو ایوانوں والی پارلیمنٹ اور خواتین کی زیادہ نمائندگی شامل تھیں۔ ووٹرز نے ان مطالبات کی بھی بھرپور حمایت کی۔ تاہم، مخالفین کرپشن کے پرانے الزامات، تعلیمی قابلیت اور ماضی کے متنازع اقدامات یعنی 2004 کے بم دھماکے کے الزامات کو شد و مد کے ساتھ اٹھا کر ان کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتے رہے۔جبکہ بی این پی یہ دعویٰ کرتی رہی کہ یہ الزامات سابقہ عوامی لیگ کے پروپیگنڈا کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
انتخابات میں عوامی لیگ کی عدم شرکت نے میدان کو کھلا چھوڑ دیاتھا۔ جبکہ جماعت اسلامی مرکزی حریف کے طور پر ابھری ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی کی شکست سےملک میں دائیں بازو کی سیاست کمزورہوئی ہے۔غیر جانبدار مبصرین اسے بنگلہ دیش کی سیکولر اور اعتدال پسند تصویر کے لئے مثبت مانتے ہیں۔ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ طارق رحمٰن کو اب انتقام کی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد، معاشی بحالی اور جمہوری اصلاحات پر توجہ دینی ہوگی۔اس بار کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 59 فیصد رہا، جو عوام کی تبدیلی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ نئی حکومت کو معاشی بحران، بے روزگاری اور انفراسٹرکچر کی بحالی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جہاں طارق رحمٰن کی قیادت میں پالیسیوں کی تسلسل اور نئی شروعات دونوں کی ضرورت ہے۔
بھارت کے تناظر میں یہ نتائج بے حد اہم ہیں۔پی ایم نریندر مودی نے طارق رحمٰن کو مبارکباد دی ہے۔ ساتھ ہی باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کےعزم کا اظہار کیا ہے۔ شیخ حسینہ کے دور میں بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں سیکورٹی اور اقتصادی تعاون نمایاں تھا، مگر بی این پی کی تاریخی پالیسیاں بعض اوقات پاکستان اور چین کی طرف جھکاؤ رکھتی تھیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں بی این پی کو ایک جمہوری اور اعتدال پسند آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بھارت کے لئے سیکورٹی تعاون، سرحدی استحکام، تجارت اور انفراسٹرکچر کے فروغ میں تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔ شیخ حسینہ کی ممکنہ حوالگی اور اقلیتوں کے تحفظ جیسے مسائل بطور امتحان نئی حکومت کے سامنے آنے والے ہیں۔
بلا شبہ یہ فتح بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میںایک نئے دور کا آغاز ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے طارق رحمٰن کوتمام سیاسی گروپ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ عوام نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا ہے۔چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت اس اعتماد کو کس طرح پورا کرتی ہے۔ اگر اعتدال، استحکام اور ترقی پر توجہ رہی تو بنگلہ دیش نہ صرف اندرونی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ خطے میں امن و استحکام کا پیغامبر بھی بن سکتا ہے۔
*****************

