تاثیر 10 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضا امام):سابق مرکزی وزیر اور آر جے ڈی اقلیتی سیل کے قومی صدر محمد علی اشرف فاطمی نے اپنے خواجہ سرائے رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں بہار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے ڈپٹی چیف منسٹر سمرات چودھری یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جس طرح اتر پردیش میں بلڈوزر کا استعمال ہو رہا ہے، اسی طرز پر بہار میں بھی کیا جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بلڈوزر دلتوں، انتہائی پسماندہ طبقات اور کمزور لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔محمد علی اشرف فاطمی نے کہا کہ بہار میں حالات 1990 سے پہلے جیسے ہو چکے ہیں۔ دلتوں اور انتہائی پسماندہ طبقات پر مسلسل حملے اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ پیٹور، کشیشورستھان کے ہری نگر اور دربھنگہ کے شہر بیلہ کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔ اسی طرح پٹنہ میں NEET کے ایک طالب علم کے قتل کا واقعہ بھی پیش آیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت لاء اینڈ آرڈر قائم رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں حکومت کا اختیار اور وقار ختم ہو چکا ہے۔ شراب بندی کے باوجود پورے صوبے میں شراب کی ہوم ڈیلیوری عام ہے۔ نوجوان تیزی سے منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شراب بندی کے نام پر ایک متوازی معیشت قائم ہو گئی ہے، جہاں غیر قانونی وصولیوں کے ذریعے اسلحہ جمع کیا جا رہا ہے اور جرائم کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔فاطمی نے کہا کہ آج بہار میں خواتین کے خلاف مظالم، عصمت دری، اور دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً جاگے، مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔سابق ایم ایل اے ڈاکٹر فراز فاطمی نے بیلہ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک غریب گھرانے کی چھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، جس کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور احتجاج ہوا۔ تاہم، انتظامیہ نے اصل مجرموں کے بجائے درجنوں بے گناہ افراد کے خلاف مقدمات درج کر دیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر بے قصور لوگوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں عصمت دری اور قتل کے واقعات عام ہو چکے ہیں اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری کے رکن شیام بھارتی نے حیا گھاٹ میں پیش آئے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں این ڈی اے کے ایم ایل اے اور ایم پی موجود ہیں۔ حکومت دلتوں کے ووٹوں سے بنی تھی، لیکن جب دلتوں پر حملے شروع ہوئے تو یہ نمائندے خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 فروری کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور دلت شوشن مکتی منچ کے اشتراک سے دلتوں پر بڑھتے مظالم کے خلاف ایس پی دفتر پر مشترکہ احتجاج کیا جائے گا، جس میں ریلیف فنڈ کی ادائیگی اور دلتوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ مہا گٹھبندھن کے تمام ارکان کو بھی احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔پریس کانفرنس میں آر جے ڈی لیڈر گوپال منڈل، بلدیو رام، راشید جمال، سبھاش چندر رائے، انیل سنگھ، سی پی آئی ایم کے ضلعی سکریٹری منٹو ٹھاکر سمیت دیگر لیڈران اور کارکنان موجود تھے۔

