چین پہاڑوں میں بنکرز اور خفیہ جوہری تنصیبات بنانے میں مصروف

تاثیر 16 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،16فروری:خفیہ جوہری تنصیبات کی جدید سیٹلائٹ تصاویر سے بیجنگ کے اپنے اسلحہ خانے کو وسعت دینے کی کوششوں کا پتہ چلتا ہے، یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے آخری عالمی ضمانتیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔
جنوب مغربی چین کی سرسبز اور دھند چھائی وادیوں میں سیٹلائٹ تصاویر ملک کی جوہری تیاریوں کی تیز رفتار پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں، جو کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے نئے دور کے لیے ڈیزائن کی گئی ایک قوت ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سچوان کی ایسی ہی ایک وادی ‘زیتونگ’ کے نام سے جانی جاتی ہے، جہاں انجینئرز مضبوط گودام اور نئی قلعہ بندیاں تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ وہاں پائپوں سے لیس ایک نیا کمپلیکس نمایاں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تنصیب انتہائی خطرناک مواد سے نمٹ رہی ہے۔ایک اور وادی میں ‘پنگتونگ’ نامی تنصیب ہے جو دوہری باڑ میں گھری ہوئی ہے، جہاں ماہرین کا ماننا ہے کہ چین پلوٹونیم سے بھرے جوہری وارہیڈز کے مرکزی حصے تیار کر رہا ہے۔ اس کی مرکزی عمارت، جس کے اوپر 360 فٹ اونچا ہوا دار ستون ہے اسے گذشتہ برسوں میں نئے وینٹی لیشن سوراخوں اور ہیٹ سنک کے ساتھ جدید بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ اضافی تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔