لاپتہ افراد کے بڑھتے ہوئے معاملات پر دہلی ہائی کورٹ کا مرکز اور دہلی حکومت کو نوٹس

تاثیر 11 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 11 فروری : دہلی ہائی کورٹ نے اس سال کے پہلے 15 دنوں میں 800 سے زیادہ لوگوں کے لاپتہ ہونے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، دہلی حکومت، دہلی پولیس اور نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کو نوٹس جاری کیا ہے۔معاملے کی اگلی سماعت 18 فروری کو ہوگی۔
سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا کہ کیا لاپتہ افراد سے متعلق ایسی کوئی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے؟ درخواست میں اس سال کے پہلے 15 دنوں میں 800 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رائٹ ٹو بی فاونڈ(بازیاب ہونے کا حق)آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی گزارنے کے حق کا لازمی حصہ ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے لازمی پروٹوکول پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے معیاری آپریٹنگ پروسیجرز ( ایس او پی ) تو جاری کیے گئے ہیں، لیکن ان پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں بڑے پیمانے پر لوگ غائب ہو رہے ہیں، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ،یکم سے 15 جنوری کے درمیان دہلی سے 807 لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس خبر پر دہلی میں بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا ہے ۔ 6 فروری کو دہلی پولیس نے اس بارے میں ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہمعاملات میں اضافے کی خبروں کو پیسے کے لیے فروغ دیا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس نے عوام میں خوف پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی انتباہ دیا۔