دہلی کی راؤز ایونیو عدالت کا فیصلہ

تاثیر 27 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دہلی کی راؤز ایونیو عدالت کے ذریعہ کل سنائے گئے ایک اہم فیصلے نے ملک کی سیاست اور عدالتی نظام دونوں کو ایک نئے مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ خصوصی جج جتیندر سنگھ کی عدالت نے مبینہ شراب پالیسی گھوٹالہ معاملے میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت تمام 23 ملزمین کو بری کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ الزامات کو ثابت کرنے کے لئے محض قیاس آرائی کافی نہیں ہوتی، بلکہ ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔ عدالت نے مرکزی تفتیشی ایجنسی سنٹرل بیورو آف انوسٹگیشن( سی بی آئی) کی تحقیقات میں پائی جانے والی خامیوں پر سخت تبصرہ کیا ہےساتھ ہی چارج شیٹ میں موجود کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
یہ مقدمہ دہلی حکومت کی 2021-22 کی نئی آبکاری پالیسی سے جڑا تھا۔نئی آبکاری پالیسی نومبر 2021 میں نافذ کی گئی تھی، جسےجولائی 2022 میں واپس لے لیا گیا۔ الزام تھا کہ پالیسی میں مبینہ بے ضابطگیاں کی گئیں اور بعض لائسنس ہولڈرز کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا۔ دہلی کے اُس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی سفارش پر سی بی آئی نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ اس دوران کئی سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی اور سیاسی فضا حد درجہ گرم رہی۔حالانکہ معاملے کی سماعت کو مکمل کرنے کے بعد کل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ  الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جج نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو محض مفروضوں یا مبہم بیانات کی بنیاد پر ملزم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ بعض دعوے گواہوں یا دستاویزی شواہد سے ثابت نہیں ہوتے۔صرف اتنا ہی نہیں، ایک تفتیشی افسر کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کی سفارش بھی کی گئی۔دوسری جانب سی بی آئی نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔ قانونی اعتبار سے یہ ان کا حق بھی ہے۔ جمہوری نظام کی یہی خوبصورتی ہے کہ نہ صرف تفتیشی اداروں کو آزادانہ کام کرنے کا اختیار ہو، بلکہ عدالتیں بھی مکمل خود مختاری کے ساتھ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے اور انھیں جانچ کے دائرے میں لانے کا اختیار رکھتی ہیں۔
اس پورے قضیے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ طویل عدالتی عمل اور گرفتاریوں کے بعد ملزمین کو راحت ملی ہے۔ سیاست میں اختلاف اور الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن عدالت کا منصب سیاسی شور سے بالاتر ہو کر حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنانا ہے۔ اس حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت کی عدلیہ آج بھی بہت حد تک غیر جانبدار اور انصاف پرور ہے۔ اگر کسی پر الزام عائد کیا جاتا ہے تو اسے عدالت میں ثابت کرنا بھی لازمی ہے۔اگر الزامات شواہد کے اعتبار سے ثابت نہیں ہوتے ہیں تو قانون کی نظر میں ، کسی بے گناہ کوجیسے تیسے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔یہ فیصلہ عوام کے لئے بھی سبق سبق آموز ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات کی گونج اکثر رائے عامہ کو متاثر کرتی ہے، مگر عدالتیں ثبوت اور قانون کی روشنی میں فیصلے دیتی ہیں۔ انصاف ملنے میںدیر ہو سکتی ہے، مگر عدالتی عمل دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھے تو سچائی سامنے آ کر رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو کئی حلقے’’سچ کی جیت‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ویسے جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھیں۔
الغرض ،کل کا یہ فیصلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قانون کی عدالت میں شور، الزام تراشی اور سیاسی بیانات نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور مضبوط دلائل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر تحقیق غیر جانبدار، شفاف اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق ہو تو سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا، اور اگر ثبوت کمزور ہوں تو عدالت بلا خوف و رعایت بریت کا اعلان کرتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے، جو جمہوریت کو استحکام بخشتا اور عوام کے اعتماد کو زندہ رکھتا ہے۔کل کے اس فیصلے نے ایک بار پھر واضح کر دیاہے کہ بھارت کی عدلیہ دباؤ سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کی روشنی میں فیصلے سنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وقتی ہنگامے، میڈیا ٹرائل اور سیاسی کشمکش اپنی جگہ، مگر تاریخ گواہ ہے کہ دیر سویر حق ہی سرخرو ہوتا ہے۔چنانچہ یہ ضروری ہے کہ ہم اداروں پر اعتماد برقرار رکھیں، انصاف کے عمل کو فطری انداز میں آگے بڑھنے دیں اور یہ یقین مضبوط کریں کہ سچائی اگرچہ آزمائش سے گزرتی ہے، مگر آخرکار کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔