ایکشن موڈ میں ڈی ایم، 5 انچل افسران سے شوکاز

تاثیر 18 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

22 کسان مشیر اور 22 زرعی رابطہ کاروں کی تنخواہ بند، 106 سے وضاحت طلب
مظفرپور، (نزہت جہاں)راجسو مہاابھیان اور فارمر رجسٹری کی پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں مظفرپور کے ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے سخت رخ اختیار کیا۔ کلکٹریٹ منعقدہ اجلاس کے دوران پانچ انچلوں کی کارکردگی غیر اطمینان بخش پائی گئی، جس پر متعلقہ انچل افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔
جائزہ میں بتایا گیا کہ ضلع میں راجسو مہاابھیان کے تحت کل 1,22,939 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 73.67 فیصد معاملات کی آن لائن انٹری کی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ڈیجیٹل انٹری شفافیت اور بروقت خدمات کی فراہمی کی کلید ہے۔ تاہم کانٹی، کُڑھنی، سرَیّا، کٹرا اور مُسہری انچل میں آن لائن اندراج کی شرح کم پائی گئی۔ کانٹی میں 30 فیصد، کُڑھنی میں 49 فیصد، سرَیّا میں 56 فیصد، کٹرا میں 60 فیصد اور مُسہری میں 64 فیصد درخواستیں ہی آن لائن درج ہوئیں۔ اسے سنگین لاپروائی قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ نے زیر التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے، آن لائن درخواستوں کی باقاعدہ نگرانی، غلط اندراجات میں فوری اصلاح، راجسو وصولی میں تیزی اور سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی۔‌دوسری جانب فارمر رجسٹری کی رفتار بھی توقع کے مطابق نہیں پائی گئی۔ اس پر 22 کسان مشیروں اور 22 زرعی رابطہ کاروں کی تنخواہیں فوری طور پر بند کر کے ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے، جبکہ مزید 106 کسان مشیروں و زرعی رابطہ کاروں سے بھی جواب مانگا گیا ہے۔ افسران کے مطابق آج 1,469 کسانوں کا اندراج اور 2,306 کسانوں کا ای-کے وائی سی مکمل کیا گیا۔ اب تک مجموعی طور پر 2,61,153 کسان رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ راجسو مہاابھیان اور فارمر رجسٹری ریاستی حکومت کی ترجیحی اسکیمیں ہیں۔ ان کی مؤثر عمل آوری کے لیے شفافیت، جوابدہی اور وقت کی پابندی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔