تاثیر 1 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں, یکم فروری :جموں کی ایک خصوصی عدالت میں ہفتہ کے روز ایک عینی شاہد نے جے کے ایل ایف سربراہ یاسین ملک کے قریبی ساتھی شوکت بخشی کو جنوری 1990 میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے اہلکاروں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ملوث شوٹروں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا۔
واضح رہے کہ جنوری 2024 میں اسی کیس کی سماعت کے دوران، حملے میں زندہ بچ جانے والے سابق آئی اے ایف کارپورل راجور امیشور سنگھ نے یاسین ملک کو مرکزی شوٹر کے طور پر شناخت کیا تھا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں آئی اے ایف کے چار اہلکار، جن میں اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ بھی شامل تھے، جاں بحق ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ 25 جنوری 1990 کو سرینگر کے مضافاتی علاقے راولپورہ میں پیش آیا تھا، جہاں آئی اے ایف کے اہلکار ڈیوٹی کے لیے پرانے سرینگر ہوائی اڈے جانے کے لیے اپنی گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے کہ دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ تقریباً 40 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔اس واقعے کے بعد 31 اگست 1990 کو یاسین ملک اور شوکت بخشی سمیت پانچ دیگر ملزمان کے خلاف نامزد ٹاڈا عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ اس کیس میں دیگر ملزمان میں جے کے ایل ایف کے کارکنان علی محمد میر، منظور احمد صوفی عرف مصطفیٰ، جاوید احمد میر عرف ’نالکا‘، جاوید احمد زرگر اور سلیم عرف ناناجی شامل ہیں۔

