ہندستان-امریکہ تجارتی معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں: پیوش گوئل

تاثیر 7 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 07 فروری : ہندوستان-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کا خاکہ جاری ہونے کے بعد تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ یہ ہماری شراکت داری کی بڑھتی گہرائی، اعتماد اور فعالیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، زرعی مصنوعات کو امریکہ میں صفر ڈیوٹی رسائی ملے گا۔
گوئل نے یہاں پریس کانفرنس میں امریکہ کے ساتھ ہوئے اس معاہدے پر حکومت ہند کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی سمت میں یہ معاہدہ اہم ثابت ہوگا۔ یہ معاہدہ ان ایم ایس ایم ای کے لیے ایک بڑا قدم ہے، جو بڑی تعداد میں خواتین اور نوجوانوں کو روزگار دیتے ہیں۔ گوئل نے بتایا کہ چائے، کافی سے لے کر اسمارٹ فون، کیلا، امرود اور آم تک پر ’صفر ٹیرف‘ لگے گا۔
گوئل نے کہا، ’’امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مستقبل کو سامنے رکھ کر دونوں ممالک کے تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے دو طرفہ تجارتی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے آج کا دن سنہرے حروف میں لکھا جائے گا… آنے والے دنوں میں ہمارے برا?مد کنندگان کے لیے مواقع کھلتے ہیں۔ جس طرح سے ہمارے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے، کسانوں، ڈیری کا مکمل طور پر تحفظ کیا گیا ہے… اس معاہدے کا ملک کے کونے کونے میں خیر مقدم ہوا ہے۔‘‘
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ہندوستان، امریکہ سے سیب کی درآمد پر کوٹہ پر مبنی ڈیوٹی رعایت دے گا، جس کے لیے کم از کم درآمدی قیمت 80 روپے فی کلوگرام طے کی گئی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ کو الکوحل مشروبات، بیوٹی پروڈکٹس، طبی آلات جیسے شعبوں میں ڈیوٹی چھوٹ دی ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کسانوں، ایم ایس ایم ای اور دستکاری کے شعبے کے مفادات کو متاثر نہیں کرے گا۔
وزیر تجارت نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کسی بھی ڈیری پروڈکٹ، چینی اور موٹے اناج پر امریکہ کو کوئی بھی ڈیوٹی چھوٹ نہیں دی ہے۔ اس معاہدے میں ہندوستانی کسانوں کے مفادات کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ جو ہمارے کسان ہندوستان میں اگاتے ہیں، ان کے اگائے گئے اناج پر امریکہ میں ٹیرف صفر ہو جائے گا۔ وہیں، کئی ایسے سامان ہیں، جسے امریکہ صفر کرے گا۔ گوئل نے کہا کہ جنرک ڈرگز، ا?ٹو پارٹس پر بھی ٹیرف کو بھی امریکہ کی جانب سے صفر کیا جائے گا۔