ہندو آبادی میں کمی کا خدشہ ظاہر ، مذہبی و ثقافتی اقدار کے تحفظ پر زور

تاثیر 28 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لاتور ، 28 فروری :سدرشن نیوز کے ایڈیٹر سریش چوہانکے نے لاتور ضلع کے کھنڈاپور میں منعقدہ ایک مذہبی پروگرام ‘ اکھنڈ ہرینام سپتہ’ میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بدلتی شرحِ پیدائش اور تبدیلِ مذہب کے بڑھتے رجحان کے باعث آئندہ 18 سال میں ہندو سماج کی اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو روکنے کیلئے فوری بیداری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر طبقات کی آبادی میں اضافہ اور ہندو سماج میں ہونے والی تبدیلیاں ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق یہ محض خدشہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ہندو سماج کو متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل تک مذہب، ثقافت اور روایات کی صحیح شناخت پہنچانا ناگزیر ہے، بصورت دیگر معاشرہ اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے گا۔