تاثیر 20 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
قاہرہ،20فروری:مصر میں ایٹمی توانائی کی اتھارٹی سے وابستہ ایک خاتون انجینئر کے المیے نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ کچھ راہ گیروں نے مذکورہ خاتون کو ملک کے جنوب میں واقع صوبے جیزہ کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر سوتا ہوا دیکھا۔سوشل میڈیا پر 66 سالہ ’لیلیٰ‘ نامی خاتون کی کہانی گردش کر رہی ہے جو ایٹمی علوم کی ماہر انجینئر ہیں۔ انھیں مکان مالک کے لالچ کی وجہ سے ان کے اپارٹمنٹ سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ گذشتہ 8 ماہ سے زائد عرصے سے فٹ پاتھ پر بے گھر اور دربدر زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔
معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معمر انجینئر قدیم کرایہ داری کے نظام کے تحت ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھیں، تاہم کرایے کی قیمت میں اضافے کی خواہش پر ان کا مکان مالک کے ساتھ تنازع پیدا ہو گیا جو ان کی بے دخلی پر ختم ہوا۔ اس دوران مکان مالک کی جانب سے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور وہ اپنی ذاتی اشیاء اور اہم دستاویزات سے بھی محروم ہو گئیں۔معلومات کے مطابق، ’ایٹمی سائنس دان‘پورے 8 ماہ تک بے گھر رہیں، جہاں وہ فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے اور سڑک کی سختیوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھیں۔ یہ حقیقت جاننے پر عوام میں شدید حیرت اور ہمدردی کی لہر دوڑ گئی۔

