بنگلہ دیش میںشمولیت پسندحکومت کی تشکیل

تاثیر 17 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  کل 17 فروری، 2026  بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک اہم باب کے اضافے کا دن تھا۔کل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمٰن نے ملک کے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ 17 سال کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آنے والے طارق  رحمٰن نے 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کو دو تہائی سے زائد اکثریت دلائی ہے، جس کے نتیجے میں وہ 13ویں جاتیہ سنگسد کے منتخب وزیراعظم بنے ہیں۔ حلف برداری تقریب جاتیہ سنگسد کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی، جو روایتی طور پر بنگابھون میں ہونے والی تقاریب سے مختلف تھی۔ اس تبدیلی کو 2024 کے طلبہ تحریک اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے وابستہ شہدا کی یاد میں ایک علامتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابات کے نتائج کے مطابق بی این پی نے 297 نشستوں میں سے 209 نشستیں حاصل کیں، جبکہ جماعت اسلامی کو 68 نشستیں ملیں۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں مل سکی تھی۔اس وجہ سے یہ انتخابات 2024 کے بعد پہلے مکمل جمہوری عمل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بھی اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور نئی حکومت سے جمہوریت، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کی حفاظت کی توقع ظاہر کی۔
طارق رحمٰن کی نئی کابینہ میں 25 وزراء اور 24 ریاستی وزراء شامل ہیں، جن میں مِرزا فخر الاسلام عالمگیر، عامر خسرؤ محمود چودھری، صلاح الدین احمد اور دیگر اہم نام شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کابینہ میں دو اقلیتی برادریوں (ہندو) کے نمائندے نِتائی رائے چودھری اور دیپن دیوان کو جگہ دی گئی ہے۔یہ نئی حکومت کی شمولیت پسند پالیسی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ، بی این پی کے ارکان پارلیمنٹ نے ڈیوٹی فری گاڑیوں اور سرکاری پلاٹس لینے سے انکار کر کے عوامی سطح پر ایک مثبت پیغام دیا ہے۔
تقریب میں بین الاقوامی سطح طور پر شرکت رہی۔ بھارت کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور فارن سیکریٹری وکرم مسری نے شرکت کی۔ اس شرکت کو نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ شیخ حسینہ کی جلاوطنی کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تھوڑی کشیدگی آگئی تھی، لیکن کل کی اس تقریب میں بھارت کی نمائندگی نے یہ واضح کر دیا کہ نئی حکومت کے ساتھ تعاون کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ دیگر ممالک جیسے بھوٹان، مالدیپ، پاکستان، ترکی، نیپال اور سری لنکا کے نمائندے بھی موجود تھے۔اس سے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی بین الاقوامی قبولیت دنیا کے سامنے آئی ہے۔
بھارت کے تناظر میں یہ تبدیلی بے پناہ اہمیت کی حامل ہے۔ بنگلہ دیش بھارت کا قریبی پڑوسی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیکورٹی، پانی کے مسائل اور سرحدی انتظام جیسے معاملات مشترک ہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے دور میں بھارت کو بنگلہ دیش میں استحکام اور تعاون ملا تھا، لیکن نئی حکومت میں جماعت اسلامی کی مضبوط موجودگی (68 نشستیں) بعض حلقوں میں تشویش کا باعث ہے، کیونکہ جماعت کا نظریہ روایتی طور پر بھارت حامی نہیں سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، طارق رحمٰن کی کابینہ میں اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ شمولیت اور استحکام پر زور دیں گے۔
اب بھارت کوبھی چاہئے کہ وہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ فعال سفارتی رابطے قائم کرے، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی تعاون کے شعبوں میں۔ روہنگیا بحران، پانی تقسیم اور سرحدی تجارت جیسے مسائل پر بات چیت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر نئی حکومت استحکام اور جمہوریت کی طرف گامزن رہی تو خطے میں امن و خوشحالی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔سفارتی ماہرین کے مطابق طارق رحمٰن کی وزارت عظمیٰ بنگلہ دیش کےلئے ایک نئی شروعات ہے۔یہ  2024 کے طلبہ انقلاب کے بعد جمہوری عمل کی بحالی کی علامت ہے۔ بھارت کےلئے یہ موقع ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے ساتھ مثبت اور باہمی مفادات پر مبنی تعلقات استوار کرے۔ امید ہے کہ نئی حکومت خطے کی سلامتی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
*************************