تاثیر 25 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً ڈیڑھ سال کی معطلی کے بعددوستانہ بس سروس دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اگرتلا۔ڈھاکہ ۔کولکتہ اور کولکتہ۔ڈھاکہ۔اگرتلا روٹ پر یہ بس اب باقاعدگی سے چل رہی ہے۔ یہ محض ایک بس سروس کی بحالی نہیں، بلکہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان اعتماد، تجارت اور انسانی رابطوں کو دوبارہ مضبوط کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔
یہ سروس 18 ماہ سے بند تھی ۔ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلیاں، ویزا کی پیچیدگیاں، سیکیورٹی کے مسائل اور ایک بس حادثے کے بعد ہونے والے احتجاج کی وجہ سے یہ سروس معطل ہو گئی تھی۔ مگر اب بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام، قانون و انتظام کی بہتری اور دونوں ممالک کی طرف سے مثبت اشاروں کے بعد اسے دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ پہلے دن کولکتہ سے روانہ ہونے والی بس ڈھاکہ ہوتی ہوئی اگرتلا کے اخورہ انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ پر پہنچی۔ تقریباً 20 مسافروں نے یہ سفر کیا۔ مسافروں اور حکام کا کہنا ہے کہ راستہ نسبتاً ہموار رہا، صرف شہری علاقوں میں معمولی ٹریفک کی وجہ سے تھوڑی تاخیر ہوئی، باقی سب کچھ نارمل تھا۔ اگرتلا۔ڈھاکہ روٹ پر بھی اب جلد ہی بس سروس باقاعدہ شروع ہو جائے گی ۔ ہفتے میں تین دن دونوں سمتوں سے 35 سیٹوں والی ریاستی بسیں چلیں گی۔
تریپورہ کے سیاحت اور نقل و حمل کے وزیر سوشانت چودھری نے اس پہل کو بہت ہی خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سروس نہ صرف سیاحت کو فروغ دے گی بلکہ تجارت، کاروبار اور ثقافتی تبادلے میں بھی نئی جان ڈالے گی۔ بہتر سیکیورٹی، آسان ویزا اور خوشگوار بات چیت سے لوگوں کے درمیان دوستی مزید گہری ہو سکتی ہے۔سوشانت چودھری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ شمال مشرقی بھارت کی معیشت کے لئے یہ سروس بہت اہم ہے، کیونکہ یہ سروس علاقے کو بنگلہ دیش کے ذریعے ملک کے باقی حصوں سے جوڑتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس روٹ کی سب سے بڑی خوبی فاصلے میں کمی ہے۔ اگرتلا سے کولکتہ جانے کا راستہ بنگلہ دیش سے گزر کر صرف 620 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ جبکہ گھوم کر سلگڑی کے راستے 1650 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت بچتا ہے بلکہ پیٹرول، کرایہ اور تھکاوٹ بھی کم ہوتی ہے۔ عام مسافر، کاروباری لوگ، طلبہ اور سیاح اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ اخورہ چیک پوسٹ اب بھارت۔بنگلہ دیش کے درمیان دوسرا بڑا تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں سے سامان کی آمدورفت میں اضافہ ہوگا، جس سے مقامی دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
بھارت کی طرف سے بھی اس پیش رفت کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارتی ہائی کمشنر پرنی ورما نے نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔انتخابات کے نتائج آنے کے فوراََ بعد پی ایم نریندر مودی نے طارق رحمٰن کو فون کر کے مبارکباد دیتے ہوئے جلد بھارت آنے کی دعوت بھیجی تھی۔صرف اتنا ہی نہیں، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بنگلہ دیش کے نو منتخب پی ایم طارق رحمٰن کی، ڈھاکہ میں منعقد تقریب حلف برداری میںشرکت کی اور دونوں ملکوں کے درمیان مستقل اور پائیدار شراکت داری کی بات کی۔ یہ سب اشارے بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے خواہشمند ہیں۔
یہ بس سروس محض ٹرانسپورٹ کا ذریعہ نہیں، بلکہ دوستی کی زندہ علامت ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ تاریخ، زبان، ثقافت اور 1971 کی جنگ آزادی کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ اس سروس کی بحالی سے خاندانوں کی ملاقاتیں آسان ہوں گی، دوست دوبارہ ملیں گے، کاروباری رابطے بڑھیں گے اور لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں کم ہوں گی۔ یہ چھوٹا سا قدم بڑی تبدیلی کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔البتہ، اسے مستحکم رکھنے کے لئے دونوں ملکوں کو محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا سیکیو ریٹی کا مکمل خیال رکھنا، ویزا کے عمل کو مزید آسان بنانا، بسوں کی باقاعدہ نگرانی اور مسافروں کی سہولیات کو بہتر کرنا ضروری ہے۔ ماضی میں کووڈ، سیاسی مسائل اور حادثات کی وجہ سے سروس رک گئی تھی۔ اب ایسا نہ ہو، اس کے لئے دونوں اطراف سے مسلسل کوششیں درکارہیں۔
مجموعی طور پر یہ ایک بہت مثبت اور امید افزا قدم ہے۔ یہ نہ صرف دونوں ملکوں کے لوگوں کے لئے سہولت لائے گا بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، تعاون اور باہمی ترقی کا ایک عمدہ نمونہ بھی پیش کرے گا۔ امید ہے کہ یہ شروعات ریل لنکس، واٹر ویز، مشترکہ منصوبوں اور مزید بڑے معاشی تعاون کی راہ ہموار کرے گی۔ جب بھارت اور بنگلہ دیش مل کر آگے بڑھیں گے تو پورا خطہ امن، خوشحالی اور استحکام کی طرف گامزن ہوگا۔
***********

