حکومت راہل کے خلاف تحریک نہیں لائے گی، ایک رکن پہلے ہی نوٹس دے چکے ہیں: رجیجو

تاثیر 13 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 13 فروری  پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف مرکزی حکومت استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک پیش نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں ایک رکن پہلے ہی نوٹس دے چکے ہیں۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعہ کو میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے پہلے راہل گاندھی کے خلاف تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اب ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے پہلے ہی اس معاملے میں ایک ”سبسٹینٹو تحریک“ پیش کر چکے ہیں، جس میں ان کی لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کرنے اور ان پر الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے قواعد کی خلاف ورزی کی اور غیر مطبوعہ کتاب کا غیر قانونی طریقے سے حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھیکئی قابل اعتراض تبصرے کیے، جیسے کہ”ملک بیچ دیا“ اور وزیر اعظم کے لیے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا۔ایسے کئی مدعے ہیں جن پر ہم نوٹس دینا چاہتے تھے۔

رجیجو نے کہا کہ ‘سبسٹینٹیو موشن’ کے قبول ہونے کے بعد، اسپیکر کے ساتھ بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسے استحقاق کمیٹی یا اخلاقیات کمیٹی کو بھیجا جائے یا ایوان میں براہ راست بحث کے لیے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منظور ہونے کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے ساتھ بات چیت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسے استحقاق کمیٹی یا اخلاقیات کمیٹی کو بھیجا جائے یا ایوان میں براہ راست بحث کے لیے لایا جائے۔