شاہین انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل علمائے کرام اب وکلاء بن کر انسانیت کی خدمت کے لئے آگے آ رہے ہیں

تاثیر 11 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مکہ مکرمہ میں پر وقار تقریب، ایمانداری اور انسانیت کا پیغام

مکہ مکرمہ، 11 فروری (اعجاز الحق) ’’مکۃ المکرمہ انڈین فورم ‘‘کے زیر اہتمام گزشتہ روز یہاں ایک پر وقار تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں کرناٹک کے شاہین انسٹی ٹیوٹ گروپ، بیدر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات اور ان کے زیر انتظام چلنے والے ادارے کی تعریف کی گئی۔ یہ تقریب ادارے کے فارغ التحصیل وکلاء اور شاہین انسٹی ٹیوٹ دیگر نمائندگان کے اعزاز میں علاقہ روسیفہ کے ہوٹل لولو میں منعقد ہوئی اورہوئی۔تقریب میںمکہ المکرمہ اور مضافات میں مقیم متعدد این آر ائیز نے شرکت کی۔
 تقریب میں بتایا گیا کہ شاہین انسٹی ٹیوٹ دینی اقدار اور جدید تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس ادارے کے ذریعہ طلبہ اعلیٰ عصری تعلیم کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ کئی فارغ التحصیل علماء نے وکالت کی ڈگری حاصل کر کے قانون کے شعبے میں قدم رکھا ہے۔ محمد عبداللہ ندوی، محمد افتخار قاسمی، محمد سعود سلفی اور فردوس عالم سلفی جیسے نام نمایاں ہیں جنہوں نے اس راہ کو اپنایا۔ انجینیئر فضل محمد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ملک میں ایماندار، بے باک اور بے لوث وکلاء کی شدید ضرورت ہے، جو مقدمات رقم کے لیے نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور انسانیت کے لیے لڑیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وکیل کو دستور کی دفعات کی گہری سمجھ کے ساتھ شریعت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، نہ کسی ظالم کو بچائے اور نہ ہی بے قصور کو پھنسائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دل سے انسانیت اور دوسرے انسان کا احترام نکل جائے تو انسان حیوان بن جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز ہے۔مقررین نے کہا کہ اگر شاہین انسٹی ٹیوٹ اسی طرح کام کرتا رہا تو جلد ہی اسلامی فقہ کے ماہر وکلاء بھارت کی عدالتوں میں نہ صرف وکالت کریں گے بلکہ عدل و انصاف کے تقاضوں پر فیصلے سنوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد ریحان، ڈاکٹر سید نعمان، انجینیئر انجم اقبال، انجنیئرافتخار عالم اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی جبکہ جدہ سے سید اعجاز الحق بھی مدعو تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا اور اختتام پر مہمانوں کو شال و گلدستہ پیش کیا گیا۔ علمائے کرام نے وطن عزیز بھارت، سماج اور مسلم کمیونٹی کی ترقی، امن و سکون کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ تقریب میں موجود سب نے اسے ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پیغام پورے ملک تک پہنچے گا تاکہ نوجوان محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں ۔پھر ایمانداری، انسانیت اور انصاف کی خدمت کے لئے آگے آئیں۔