تاثیر 16 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ملک میں سماجی ہم آہنگی ،تعلیمی فروغ ،اقلیتی فلاحی منصوبے اور موجودہ عالمی صورتحال پر گفتگو ہوئی
نئی دہلی ؍کالی کٹ (عبدالکری امجدی ) بین الاقوامی شہرت یافتہ بزرگ عالم دین ،گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد کی دارالحکومت میںاعلیٰ سطحی وفد کیساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک اہم ملاقات ہوئی ۔ملاقات کے دوران مختلف سماجی انسانی تعلیمی اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اقلیتی بہبود سے متعلق معاملات اور بین الاقوامی حالات پر بھی گفتگو ہوئی۔ملاقات میں ملک میں سماجی ہم آہنگی تعلیم کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ عالمی صورتحال اور اس کے اثرات پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔تمام طبقات کو ساتھ لے کر ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور اس بات کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ معاشی پیش رفت کے ساتھ ساتھ خوشحالی کے اشاریے اور انسانی ترقی کو بھی مناسب ترجیح دی جائے۔ وسائل کی تقسیم آبادی کے تناسب اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی گئی۔
وقف سے متعلق ایس آئی آر خدشات قدیم مساجد اور اسلامی ورثے کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ اور آزاد نیشنل فیلوشپ سمیت اقلیتی تعلیمی فلاحی منصوبوں کی بحالی جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملپّورم سینٹر کی ترقی اور ملک کی اقلیتی برادری کے ساتھ مرکزی حکومت کے مؤثر رابطے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

اس ملاقات کے دوران ہز ایمیننس نے وزیر اعظم کے ساتھ سماجی انسانی تعلیمی اور ترقیاتی امور کے وسیع دائرے پر بامعنی گفتگو کی۔ شیخ ابوبکر احمد نے کیرالہ کے حالیہ دورے کے دوران مختلف طبقات سے حاصل ہونے والی تجاویز اور خدشات وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے۔ یہ دورہ انسانیت کے عنوان کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے آنے والے مقدس مہینے رمضان المبارک کے حوالے سے اپنا پیغام اور تاثربھی پیش کیا ۔
وزیر اعظم نے سمستہ کیرالا جمعیۃ العلماء اور جامعہ مرکز کی قیادت میں جاری تعلیمی اور سماجی فلاحی سرگرمیوں کو سراہا اور کہا کہ ایسی کاوشیں معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں۔
گفتگو میں وقف اور ایس آئی آر سے متعلق خدشات قدیم مساجد اور اسلامی ورثے کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ اقلیتی تعلیمی فلاحی منصوبوں بشمول مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کی بحالی بے قصور افراد کو انصاف کی فراہمی شمالی ہند کے اسلامی اداروں جیسے مبارکپور جامعہ اشرفیہ کو درپیش مسائل جنوبی ہند کے بڑے زیارتی مراکز کو جوڑنے کے لیے ٹرین خدمات کی تجاویز اور Aligarh Muslim University کے ملپّورم سینٹر کی ترقی جیسے موضوعات شامل تھے۔ ملک بھر کی اقلیتی برادریوں کے ساتھ مرکزی حکومت کے مؤثر اور قریبی رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اس ملاقات میں سمستہ کیرالا جمعیۃ العلماء کے سیکریٹری شیخ عبدالرحمن ثقافی اور مرکز نالج سٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گرینڈ مفتی کی قیادت میں بھارت میں جاری تعلیمی اور سماجی فلاحی سرگرمیاں نہایت مؤثر انداز میں انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کا وقار بلند کرنے کے لیے گرینڈ مفتی کی سماجی اور ثقافتی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور حکومت ان سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

