بھارت اور بحرین کے درمیان بڑھتا تعاون

تاثیر 12 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت اور بحرین کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارتی بحریہ کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل ترن سوبتی کا بحرین دورہ اور وہاں کے وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ سے ملاقات نے اس رشتے کو ایک نئی جہت دی ہے۔ 10 فروری کو رفاع محل میں ہوئی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں فریق نے بحری تعاون کو مزید بہتربنانے پر تفصیلی بات چیت کی۔ خاص طور پر معلومات کے تبادلے، مشترکہ تربیت، صلاحیت کی تعمیر اور مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ یہ ملاقات محض رسمی کارروائی نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کی تزویراتی ضروریات کو سمجھنے اور مل کر کام کرنے کی خواہش کا واضح اظہار تھی۔
بحرین خلیج فارس کا ایک چھوٹا مگر انتہائی اہم ملک ہے۔ یہاں سے گزرنے والے سمندری راستے دنیا کے تیل کے تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کے لئے اس خطے میں مضبوط شراکت دار کا ہونا فطری طور پر ضروری ہے۔ دوسری طرف بحرین بھی علاقائی سلامتی کے لئے بڑے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ بھارتی بحریہ کا تجربہ، تکنیکی صلاحیت اور سمندری سلامتی میں فعال کردار بحرین کے لئے قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔
اس ملاقات سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی سطحوں پر رابطے بڑھے ہیں۔ اسی مہینے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بحرین کے اپنے ہم منصب عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات کی تھی۔ 26میں بھارت کے 77ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر بحرین میں منعقد ہونے والے شاندار استقبالیہ پروگرام میں سینکڑوں معزز شخصیات شریک ہوئیں، جن میں بحرین کے وزیر خارجہ مہمان خصوصی تھے۔ اس تقریب میں ’انڈو بحرین فرینڈ شپ‘ کے عنوان سے پینٹنگ نمائش، مشہور بحرینی ریپر کا پرفارمنس اور ’وندے ماترم‘ کی 150 ویں سالگرہ پر بانسری وادن کے پروگرام شامل تھے۔ یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک صرف دفاع اور سلامتی تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عوام کے درمیان رابطوں کو بھی مضبوط  بنانا چاہتے ہیں۔
پچھلے سال نومبر میں نئی دہلی میں منعقد بھارت-بحرین اعلیٰ مشترکہ کمیشن کی پانچویں نشست میں تجارت، دفاع، صحت، ثقافت، خلائی تعاون، فِن ٹیک اور سائبر سیکیورٹی جیسے متعدد شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیاتھا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اس وقت کہا تھا کہ بحرین کے جی سی سی (بحرین خلیجی تعاون کونسل) کی صدارت سنبھالنے کے ساتھ بھارت-جی سی سی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ظاہر ہے، یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی وسعت کو واضح کرتا ہے۔
بھارت اور بحرین کے تعلقات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ دونوں فریقوں کے لیے مفید ہیں۔ بھارت کو خلیج میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ملتا ہے، جہاں سے وہ سمندری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور اپنے شہریوں کے مفادات کی حفاظت کر سکتا ہے۔ بحرین کو بھارت جیسے بڑے جمہوری اور ابھرتی ہوئی طاقت کے ساتھ شراکت سے علاقائی توازن اور تکنیکی تعاون میں فائدہ ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا تنازع نہیں ہے اور دونوں دہشت گردی، سمندری ڈکیتی اور علاقائی عدم استحکام کے خلاف ایک جیسا موقف رکھتے ہیں۔چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ یہ شراکت داری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ مشترکہ بحری مشقیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ، بحری جہازوں کی مرمت و دیکھ بھال میں تعاون اور بحری افسران کی تربیت جیسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید بڑھائیں گے۔ ساتھ ہی ثقافتی اور معاشی تبادلے سے عوام کے درمیان رابطہ بھی گہرا ہوگا۔
مجموعی طور پر بھارت اور بحرین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہے۔ اس سے نہ صرف خلیج میں بھارت کی موجودگی کو مضبوطی مل رہی ہے بلکہ یہ بحرین کو بھی بھارت جیسے ایک مستحکم اور قابل اعتماد شراکت دار فراہم کرتا ہے۔ اگر دونوں فریق ان بات چیت کو عملی اقدامات میں بدلتے رہے تو یہ شراکت داری علاقائی امن و سلامتی کے لئے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔