! ماہِ رمضان بہت بہت مبارک ہو

تاثیر 18 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کل18 فروری ، 2026 کی شام ، رمضان المبارک کے چاندکے دیدار کی اطلاع جیسے ہی عام ہوئی ،دل میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھی تھی ۔ہمارا پیارا وطن بھارت اور اس کے مضافات کے ممالک میں ماہِ رمضان کا آغاز ہوچکاہے۔ یہ وہ ماہ ہے، جس میں آسمان سے رحمت کی بارشیں برستی ہیں، گناہوں کی آگ سرد پڑ جاتی ہے اور اللہ کےبندوں کے درمیان انس و محبت کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔
رمضان صرف روزے کا نام نہیں، یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم مہمان ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے ،جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ: 185)۔ یہ ماہ قرآن کی آمد کا ماہ ہے، جو ہمارے دلوں کو روشنی بخشتا ہے اور روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کو نہ صرف بھوک پیاس برداشت کرنی پڑتی ہے بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل کو بھی گناہوں سے روکنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مکمل تربیت ہے، جو انسان کو صبر، شکر، رحم اور تقویٰ سکھاتی ہے۔
رمضان کے فضائل لامتناہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے رمضان کا روزہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘۔ تراویح کی نماز، تہجد کی راتیں، صدقہ و خیرات، دعاؤں کی قبولیت کا وقت، لیلۃ القدر کی تلاش،یہ سب رمضان کی وہ نعمتیں ہیں، جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے خاص طور پر رکھی ہیں۔ لیلۃ القدر تو ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات کی تلاش میں دل بے قرار ہو جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور زبان بس یہی دہراتی ہے: ’’اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے معاف فرمادے !‘‘
رمضان کے مسائل بھی کم نہیں ہیں ۔ کئی لوگوں کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے،طبی مسائل، شدید گرمی، لمبے اوقات روزہ، یا معاشی مجبوریاں۔حالانکہ اسلام نے رخصتیں بھی دی ہیں: بیمار، مسافر، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، بوڑھے جو روزہ نہ رکھ سکیں، ان کے لئے فدیہ کا راستہ ہے۔ یہ رخصتیں اللہ کی رحمت ہیں، نہ کہ سستی کا بہانہ۔ بلا عذر قصداََ روزہ توڑنے والے کو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں، جبکہ روزہ چھوڑنے والے کو اللہ کی طرف سے معافی کی امید رکھنی چاہیے،  اگر توبہ صادق ہو۔
آج سے جب شام ڈھلے گی اور اذانِ مغرب کی آواز فضا میں گونجے گی ، تو یاد رکھیں کہ یہ صرف اِفطار کا وقت نہیں، در اصل اللہ کی بارگاہ میں حاضری کا لمحہ بھی ہوتا ہے۔ سحری کی راتوں میں جب نیند آنکھوں سے چھن جائے تو دعا کریں کہ اللہ ہمیں تقویٰ عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو دھو دے اور ہماری امت میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرکے اسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بنادے۔
یہ ماہ ہمیں ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے کا درس بھی دیتا ہے۔ جب ہم خود بھوکے رہتے ہیں تو غریب کی بھوک سمجھ آتی ہے، جب پیاس برداشت کرتے ہیں تو پانی کی قدر محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا صدقہ فطر، لنگر، افطار کی دعوت،یہ سب رمضان کی روح ہیں۔ جو شخص اپنے پڑوسی کو بھول جاتا ہے، اس کا روزہ مکمل نہیں ہوتا ہے۔ماہ رمضان ہمیں ایک نئی شروعات کا موقع بھی دیتا ہے۔ دل میں جل رہی، کینہ، حسد یا نفرت کی آگ کو ،اس ماہ کی رحمت سے ٹھنڈا کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ جو رشتے ٹوٹ چکے ہوں، انہیں معافی اور محبت سے جوڑنے کا اس سے بہتر موقع شاید پھر کبھی نہیں ملے۔ جو مال اللہ نے دیا ہے، اس میں سے غریبوں، یتیموں اور مسافروں کا حق نکا لنے کا یہ حسین مہینہ ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی خوشی دولت میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور بندوں کی خدمت میں ہے۔
اللہ کرے کہ ہم سب اس ماہ کی برکات سے خوب فیض یاب ہوں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، ایک دوسرے کے لئے دعاگو بنیں اور ملک و قوم کے لئے امن و خوشحالی کی دعائیں مانگیں۔اللہ کرے، یہ رمضان ہم سب کےلئے مغفرت کا دروازہ کھولے، رحمت کی چادر بن جائے اور اپنے بے پناہ فیوض و برکات سے ہمیں مالا مال کردے۔ آئیے !  یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام روزہ داروں کی عبادات کو شرف قبولیت عطا فرمائے، بیماروں کو شفا دے، غریبوں کو رزق عطا کرے اور پوری امت مسلمہ کو امن و آشتی نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین!
روزنامہ ’’تاثیر ‘‘ کی جانب سے ماہ رمضان آپ کو بہت بہت مبارک ہو !